حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 41

حقائق الفرقان لدا سُورَةُ التَّوْبَة بما رحبت کی آیت نازل ہوئی کہ کثرت نے عجب دلا یا تو یہ کثرت کسی کام نہ آئی بلکہ زمین با وجود فراخی کے تنگ ہو گئی ۔ ایسی تنگ گھڑیوں میں جب سب سے ساتھ چھوٹ گیا۔ حضرت سرور کائنات ہو پکارتے جاتے تھے۔ انَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تشحیذ الاذہان جلد ۶ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳۵۷) غزوہ حنین میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچی اس کا سبب خود ہی قرآن نے بتایا ہے۔۔۔۔۔۔ جب تمہاری کثرت تمہیں گھمنڈ میں لائی پس تمہارے گروہ تمہارے کسی کام نہ آئے پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ نکلے اہل اسلام اس غزوہ میں اپنی کثرت و جمیعت پر پھول گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ہدایت نشان کو طاق پر دھر دیا اور اس خدا داد قوت اور عطیے سے جسے حرم کہتے ہیں کام نہ لیا۔ اس لئے وہ چندلحہ کی اور جلد تدارک پانے والی تکلیف انہیں پہنچی ۔ چونکہ وہ لوگ حکم رسول سے غافل ہو گئے پس یقیناً رسول اللہ ان میں اور وہ رسول اللہ میں اس وقت نہ تھے گو تھوڑی دیر بعد پھر نصرت الہی نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ایسا ہی جو صدمہ اہلِ اسلام کو غزوہ اُحد میں پہنچا۔ اس کا سبب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہوا کہ عبداللہ بن جبیر کے ہمراہیوں نے بخلاف حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونچے ٹیلے کو جس پر ثابت رہنے کے لئے آپ کا تاکیدی حکم تھا چھوڑ دیا۔ اس لئے وہ صدمہ انہیں پہنچا جس کا تدارک فضل ایزدی نے بہت جلد کر لیا ۔ پس یہاں بھی کیسی صاف بات ہے کہ اس مصیبت کے نزول پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں نہ تھے کہ عدول حکمی سے یہ سزا ان پر آئی۔ شاید کسی کے دل میں یہ وسوسہ گزرے کہ خود آنحضرت پر بھی تکلیف و مصیبت آئی۔ سو یا د رکھنا چاہیے کہ قوم کا خیر خواہ اور ان کا دلی ہمدرد، ہادی و مصلح ہر حال میں اپنی قوم کا شریک نیک و بد رہتا ہے بعض اوقات میں اس لزوم کی وجہ سے ضرور ہے کہ ان لوگوں کے مصائب و آلام سے اسے بھی حسب قانون قدرت بہرہ ملے تا کہ ہر حال میں ان کا ہمدرد اور سچار فیق و انیس ثابت ہو۔ پس یوں ہی ہوا کہ جب اس معرکے میں بعض کو تاہ اندیش آدمیوں کی غلطی کے سبب سے مسلمانوں پر ایذاء آئی۔ سچے ہمدرد رسول مقبول نے ان سے الگ ہونا گوارا نہیں فرمایا۔ بلکہ ان کی شمولیت میں اس دکھ سے لے میں نبی ہوں اور اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔