حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 487 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 487

حقائق الفرقان ۴۸۷ سُورَةُ الْكَهْفِ ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے۔ اور وہ لارڈ میئر کے دن نمائش کیلئے باہر لائے جاتے تھے۔ لیکن جب بسبب مدید زمانہ کے بوسیدہ ہو گئے۔ تو ان کے قائمقام موجودہ عظیم الشان ٹھوس بہت تراش کر بنائے گئے ۔ وہ شخص جس نے ان کو بنایا تھا اس کا نام کپتان رچرڈ سانڈ رس تھا۔ جس کو اس کاریگری کے عوض میں ستر پونڈ دیئے گئے۔ ہمارے مفسروں نے تو فرمایا ہے کہ وہ پہاڑ چاٹتے ہیں اور ان کو پیاز کے برابر کر دیتے ہیں۔ مگر میں بحمد اللہ دیکھتا ہوں کہ انہوں نے پہاڑ ، دریا ، لوگوں کا مال ، عزت جاه و سلطنت ، بلند پروازی، ہمت و استقلال سب کچھ کھا کر موسی کے سانپ کی طرح تم دیکھ لوڈ کا بھی نہیں لیا۔ بلکہ جیسے ہمارے ملک میں پاد عیب ہے ان کے یہاں تو ڈکار عیب ہو گیا ہے۔ اور ان کے کان تو اتنے لمبے ہیں کہ مشرق و مغرب تک کی آواز ہر روز سن کر سوتے اور اٹھتے ہی سنتے ہیں۔ زمانہ سابق میں جبکہ تار پیڈو اور توپ کا عام موقع نہ تھا۔ لوگ دیواروں سے حفاظت کا کام لیتے تھے۔ جنہیں فصیل کہتے تھے۔ چنانچہ لاہور کی فصیل ہمارے سامنے گرائی گئی ۔ امرت سر کی خندق وفصیل ہمارے سامنے ضائع کی گئی وغیرہ وغیرہ ۔ بلکہ دیانند اور منوجی نے فصیلوں کا اپنے شاستروں میں ذکر فرمایا ہے۔ جن کا آگے حوالہ آتا ہے۔ غرض اپنے اپنے وقتوں میں حملہ آوروں کی حفاظت کیلئے لوگوں نے ایسی دیواریں بنائی ہیں۔ اسی طرح چین کی دیوار مشہور عالم ہے۔ فضل بن یحیی برمکی نے اسلام میں ایک ایسی دیوار بنوائی ۔ دیکھو مقدمہ ابن خلدون اقلیم ثالث کا بیان صفحہ ۵۴ میں ہے کہ ترک اور بلا دخیل میں ایک ہی مسلک مشرق میں ہے وہاں فضل نے ایک سد بنوائی۔ سد سبا ۸۱ - ۹۷ سد یا جوج ماجوج ۲۰۶ سیدم آرب ۹۶ - ۹۷ اور بنام در بند صفحہ ۳۵ اور بنام حصن ذوالقرنین ۔ ۹۳ ( تقویم البلدان ) کتاب البلدان میں صفحہ اے، ۲۹۸ ، ۳۰۱ اور مراصدالاطلاع کے صفحہ ااا میں ہے ۔ دیکھو مراصد الاطلاع باب الباء والالف طبع فرانس جلد اول اور اسی کی تائید آثار باقیہ سے بھی ہوتی ہے صفحہ ۴۱