حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 467
حقائق الفرقان ٤٦٧ سُورَةُ الْكَهْفِ فائدہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی معراج میں آئندہ کے واقعات بتلائے گئے تھے۔ مگر حضرت موسی" تو درمیان میں بول پڑے۔ اس واسطے سلسلہ لمبانہ چلا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبر سے کام لیا۔ اس واسطے بہت سے نظار ہائے قدرت در ہائے قدرت دیکھے۔ نکتہ معرفت ۔ ان آیات میں جہاں کسی عیب کا ذکر ہے۔ وہاں صیغہ واحد متکلم کا استعمال کیا گیا ہے مثلاً أَرَدْتُ۔ میں نے ارادہ کیا اور جہاں عیب و صواب ملا ہے۔ وہاں فرمایا أَرَدْنَا ۔ اور جہاں بالکل خوبی ہی خوبی ہے ۔ وہاں کہا ہے ۔ آرا در بك - تیرے رب نے ایسا ارادہ کیا ہے۔ اس میں ایک طریق ادب سکھایا ہے۔ حضرت ابراہیم کا بھی یہی طریقِ عمل ہے۔ چنانچہ فرمایا وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء: ۸۱) جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دیتا ہے ۔ مرض کو اپنی طرف نسبت کیا اور شفاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔ یہ طریق ادب طریق انبیاء ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷، ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۱) ۸۴ - وَيَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَاتْلُوا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا - ترجمہ ۔ اور اے محمد ! تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کا حال تو کہہ دے میں قریب ہی پڑھ سناؤں گا اس کا حال۔ تفسیر۔ تجھ سے ذوالقرنین ( دو سینگ والے) کی بابت پوچھتے ہیں ۔ تو کہہ میں ابھی اس کا قصہ تمہیں سناتا ہوں ۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۵۸ حاشیہ ) ( یہ ) قصه کتاب دانیال کے ایک مشکل مقام کی تفسیر ہے۔ سنیئے ۔ دانیال کی کتاب میں جو بائبل کے مجموعہ میں ستائیسویں کتاب ہے۔ اس کے آٹھ باب ۴ آیت میں حضرت دانیال نبی کا مکاشفہ ہے۔ دانیال کی نبوت اور اس کا مکاشفہ آپ کے نزدیک کیسا ہی ہو اور کچھ ہی وقعت کیوں نہ رکھے۔ الا یہود اور عیسائیوں میں جو قصہ ذوالقرنین کے سائل اور مجیب کے مخاطب تھے۔ یہ مکاشفہ صحیح اور دانیال کی کتاب صحیح اور مسلم ہے۔ اور اس مکاشفہ میں یہ بات مندرج ہے۔ تب میں نے اپنی آنکھ اُٹھا کر نظر کی ۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ ندی کے آگے ایک مینڈھا کھڑا ہے