حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 465 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 465

حقائق الفرقان ۴۶۵ سُورَةُ الْكَهْفِ قرآن مجید میں استطعما آیا ہے میں نے کہا انہیں کب مل گیا تھا۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه (۴۶۵) ۷۹- قَالَ هُذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا - ترجمہ ۔ خضر نے کہا یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے میں تم کو قریب ہی بتائے دیتا ہوں اُن باتوں کی حقیقت جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ تفسير تأويل - حقیقت۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۸،۲۷ مورخه ۳۰ را پریل ، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۱) ۸۰ - اما السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسْكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ اعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَّلِكُ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا - ترجمہ - کشتی جو تھی وہ چند بے کسوں کی تھی کام کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا اس کو عیب دار کر دوں کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑتا تھا ہر ایک کشتی کو زبر دستی ۔ تفسیر فَكَانَتْ لِمَسْكِينَ ۔ فقراء و مساکین میں فرق ہے۔ فقیر کا ترجمہ محتاج ۔ محتاجی کی کئی قسم ہیں ۔ مثلاً روٹی نہیں ۔ سرما میں لحاف نہیں ۔ خرچ کم ہو گیا ۔ وہ چاہے خواہ گھر میں امیر ہی ہو۔ باقی رہا مسکین ۔ قابل ترقی آدمی ہے۔ ترقی کا سامان نہیں ۔ مثلاً جلد سازی جانتا ہے۔ سامان نہیں۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۵) - وَ أَمَّا الْغُلَمُ فَكَانَ آبَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِيْنَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَ كُفْرًا - ترجمہ ۔ اور وہ جوان کہ اس کے ماں باپ ایماندار تھے تو ہم ڈرے کہ ان کو عاجز کرے گا سرکشی اور کفر کر کے۔ تفسیر - يرهقهما ۔ ان دونوں کے ذمے مڑھ دے۔ اس بیان میں تین باتوں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کیا ہے ۔