حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 461 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 461

حقائق الفرقان ۴۶۱ سُوْرَةُ الْكَهْفِ چلی گئی ۔ اور یہ ان کے لئے مقرر نشان تھا کہ جہاں اُنہیں مچھلی کو بھول جانے کا واقعہ پیش آئے گا وہاں وہ مرد خدا انہیں ملے گا۔ سوایسا ہی ہوا خدا تعالیٰ نے جو غیب سے انہیں ایک نشان دیا تھا۔ وہ پورا ہوا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جو مردان خدا کی سوانح زندگی میں ملتے ہیں اور یہ ایسے واقعات ہیں کہ اُن سے سالکان منازل الہیہ کے قلوب و ایمان تازہ ہوتے ہیں ۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحه ۲۲۸، ۲۲۹) ١٣ - فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتْهُ اتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هُذَا نَصَبا - ترجمہ ۔ پھر جب آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے جو ان سے کہا ہما را ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے یہ آج کے سفر میں تکلیف اٹھائی ۔ تفسیر - اتنا غَدَاءنَا ۔ ایک بات سے دوسری بات یاد آتی ہے۔ کھانے سے مچھلی کا خیال آیا۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۵ ) نصبا - حدیثوں میں آیا ہے کہ مَا وَجَدَا نَصَبًا إِلَّا إِذَا جَاوَزَا تھکان اس وقت معلوم ہوا جبکہ اصل مقصد کی جگہ سے آگے چل پڑے۔ یہ انبیاء علیہم السلام کے نور فراست پر دلیل ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۱ ، ۲۲ مورخه ۱۷ ، ۴ ۲ رمارچ ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۵۹) ۶۴ - قَالَ أَرَعَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا انْسَنِيهُ إِلَّا الشَّيْطَنُ أَنْ اَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ۔ ترجمہ ۔ جوان نے کہا آپ نے یہ دیکھا جب ہم نے آرام پایا پتھر کے پاس تو ( جناب ) میں مچھلی بھول گیا اور یہ شیطان ہی نے مجھے بھلا دیا ہو گا کہ میں اس کا تذکرہ کروں آپ سے اور مچھلی نے اپنا راستہ لیا دریا میں کیسا تعجب ہے۔ تفسیر ۔ ادویت ۔ آپ کو خبر بھی ہے۔ عجبا ۔ عجیب بات ہے۔ (جدا کلمہ ہے ) یا یہ کہ مچھلی کا گم ہو جانا ایک عجیب بات ہے۔