حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 459
حقائق الفرقان ۴۵۹ سُورَةُ الْكَهْفِ تفسیر۔ کسی کتاب البی کلام یا عظیم الشان شخص کی کسی بات کے معنے کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ جس موقع کی کلام ہو وہاں کی آب و ہوا اور اس قوم کی عادات اور حالات اور وہاں کے جغرافیے کے مفسر کو صحیح علم ہو۔ ورنہ آئندہ آنے والی نسلوں کے واسطے ایک ابتلاء انگیز غلطی کا اندیشہ اس مفسر کے بیان سے لگ جانے کا احتمال ہے۔ مثلاً ایک کتاب صدائق العشاق میں لکھا ہے کہ ایک شخص جہاز پر سوار تھا۔ کار قضاء جہاز ڈوب گیا۔ وہ شخص ایک تختہ پر چمٹارہا۔ اور تختہ رفتہ رفتہ کشمیر میں جالگا۔ آج جغرافیہ دان اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ سمندر میں جہاز کہاں اور کشمیر کہاں۔ ایسا ہی اس رکوع میں مجمع البحرین کے متعلق بھی بعض نے لکھا ہے کہ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں روما روم اور فارس کے دریا ملتے ہیں۔ حالانکہ امیہ ۔ حالانکہ ایسی کوئی جگہ ان ممالک میں نہیں ۔ جہاں تک میں نے اس معاملہ میں غور کیا ہے۔ مجمع البحرین یا تو وہ مقام ہے جہاں نیل ازرق اور نیل ابیض باہم ملتے ہیں ۔ مصر میں ایک شہر خرطوم نام مشہور ہے۔ اس کے قریب ایک جگہ سنار نام ہے۔ یہاں دریائے نیل کی دو شاخیں ملتی ہیں ۔ اسی مقام کا نام مجمع البحرین ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قیام فرعون کے ساتھ جنگ کرنے سے پہلے مصر میں ہی تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کسی نے پوچھا تھا کہ هَلْ اَعْظَمُ مِنْكَ؟ کیا تجھ سے بڑا بھی کوئی آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک ہے۔ اس پر حضرت موسی نے عرض کی کہ كَيْفَ لِي السَّبِيل إلى لقيه ؟ اس سے ملاقات کی کیا راہ ہے۔ حکم ہوا کہ ایک مچھلی لے لو۔ اپنے جوان جوان منی مخلص یوشع کو ساتھ لیا اور حکم تھا۔ جہاں مچھلی گم ہو گی وہاں وہ ملے گا۔ یہ ایک نشانی تھی ۔ لا ابرمح ۔ نہیں ٹلوں گا ۔ نہ رکوں گا۔ حقبا ۔ اس لفظ حقہ کے تین معنے آئے ہیں ۔ ایک برس ۔ ستر برس ۔ اتنی برس ۔ مدت دراز پر بھی بولتے ہیں۔ صوفیاء نے اس سے ایک نکتہ نکالا ہے کہ ایک ہی مدرسہ میں پڑھنے سے انسان کے خیالات میں وسعت نہیں ہوتی ۔ میں بھی پسند کرتا ہوں ۔ کہ آدمی چل پھر کر دیکھے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ علم حدیث کے پڑھنے سے بھی بہت سے د دینی معلومات دمات بڑھتے ہیں اور محن اور مختلف مشائخ کی صحبت سے