حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 450 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 450

حقائق الفرقان ۴۵۰ سُوْرَةُ الْكَهْفِ رو کا سراستے میں تصویری زبہ میں تصویری زبان میں کتب مقدسہ کا یہ فقرہ تھا۔ وہ پتھر ۔ فقرہ تھا۔ وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا۔ وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوا عرب اُمی محض تھے۔ اور صاحب کتاب نہ تھے۔ ان کے لئے بجائے کتاب یہی پتھر گویا کلام الہی تھا۔ اس پتھر کو عرب یمین الرحمن کہتے تھے۔ اب جو اصل آ گیا اور اس کی منزلہ کتاب میں اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله - (الفتح: (1) :11) کا فرمان اترا۔ عرب چونک اٹھے اور کہنے لگے مَا الرَّحْمَنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُورًا (الفرقان - ۶۱ ) ۶۱) اس کے تشریف لاتے یروشلم کی باغبانی بنی اسرائیل سے چھن گئی۔ جو اس پر گرا۔ چور ہوا۔ جس پر وہ گرا پس گیا۔ یہ پتھر کونے کا سرا نہ تو مسیح ہیں۔ کیونکہ مسیح نے اس کے ظہور کے لئے اپنے بعد کا زمانہ بتایا۔ دیکھو لوقا ۰ ۲ باب ۱۶ متی ۲۱ باب ۴۳- دانیال ۲ باب ۳۴ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۳۴ تا ۲۳۸) وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ ۔ میں بنی اسرائیل و بنی اسمعیل کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل نبوت ، سلطنت ، دونوں باغوں کے مالک تھے ( بائیبل میں بھی اس کی تمثیل ہے ) بنی اسمعیل کو حقارت سے دیکھتے ۔ خدا نے نبوت بھی چھین لی اور سلطنت بھی ۔ عبرت کا مقام ہے ۔ یہود دنیا میں بالشت بھر زمین کے مالک نہیں اور نہ کوئی ان کا ناصر وَلَمْ تَكُنْ لَهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا - " (الكهف : ۴۴) ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۱۱ ء صفحه (۳) لے جو لوگ ہاتھ ملاتے ہیں تجھ سے وہ ہاتھ ملاتے ہیں اللہ سے۔ ۲ رحمن کیا ہے۔ کیا سجدہ کرنے لگیں ہم جس کو تو فرماوے گا اور بڑھتا ہے ان کا بھاگنا۔ سے اور اس کی کوئی جماعت ایسی نہ ہوئی جو اس کی مدد کرتی اللہ کے سوا اور نہ وہ مدد پایا۔