حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 427
حقائق الفرقان ۴۲۷ سُورَةُ الْكَهْفِ سُوْرَةُ الْكَهْفِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ کہف کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا - ترجمہ ۔ ہر ایک حمد اسی کے لئے ہے جس نے اپنے پیارے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں کچھ کجی نہ رکھی ۔ تفسیر ۔ سورہ بنی اسرائیل میں زیادہ تر یہود سے خطاب ہے اور ان کی دو شدید تباہیوں کا ذکر کر کے مسلمانوں کو بھی متنبہ کیا ہے۔ اب اس سورہ شریف میں زیادہ بحث پہلے عیسائیوں سے کی ہے۔ پھر مجوس سے اور درمیان میں کچھ یہود کو بھی خطاب کیا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ فتنہ دجال سے بچنے کے واسطے ہر جمعہ کو سورہ کہف کی پہلی دس آیتیں اور پچھلی دس آیتیں پڑھو۔ ان آیات کے مطالعہ سے واضح ہو سکتا ہے کہ دجال کون ہے اور اس مات ہیں اور اس سے بچنے کی کیا راہ ہے۔ الكتب - (1) کامل جامع کتاب ۔ (۲) لکھی ہوئی ۔ (۳) ایک لشکر جو شبہات کو دور کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں بصورت کتاب موجود تھا۔ عِوَجًا ۔ دو معنے ہیں۔ (۱) ۔ ٹیڑھا پن۔ اس کتاب میں کوئی غلط تعلیم نہیں۔ (۲)۔ جو ٹیڑھا رہے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۵)