حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 396 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 396

حقائق الفرقان ۳۹۶ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ تفسیر واستفزز - استفزاز کسی کو ہلکا او چھا بنالینا۔ایسا کہ اپنے پر بھی قابونہ رہے۔ بصوتك صوت کا لفظ چار معنوں میں آیا ہے۔ (۱) کھیل کو دلعب۔ (۲) لہو۔ اللہ سے غافل کرنے کا سامان۔ (۳) غناء۔ گانا بجانا۔ (۴) ہر چیز کو معصیت اللہ کی طرف بلائے (كُلُّ دَاعِ إِلى مَعْصِيَةِ الله) مومن کو ایسی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ بخيلك و رجلك۔ دنیا میں کوئی سوار ہے کوئی پیادہ ۔فرماتا ہے ۔ اے شیطان تیرے سوار و پیادے ہیں یعنی تیرے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ - مال میں شرکت شیطان یہ ہے کہ مال حرام راہ سے کماوے ۲۔ اللہ کے حکم کے خلاف اس مال کو خرچ کرے۔ و الاولاد ۔ اولاد میں شرکت شیطان یہ ہے۔ ا۔ زنا سے اولاد حاصل کرنا۔ ۲۔ اولاد کو کفر میں رنگین کرنا۔ ۳۔ ایسے نام رکھنے جن میں غیر اللہ کے فضل وغیرہ کا ذکر ہو مثلا فضل میراں ۔ پیراں دیتا۔ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ - شیطان کے وعدے کیا ہیں ۔ ان کے لئے میں نے بہت تحقیقات کی ہے۔ تین باتیں تو بہت قوی ہیں ۔ اور دو اسی قبیل سے۔ ادنی شعبہ تو یہ ہے کہ کوئی آدمی برے کام سے روکا جاوے تو وہ جواب میں کہے کہ فلاں جو کرتا ہے۔ ایسا کہنے والا گویا تمام بدیوں کو جائز ٹھہراتا ہے ۲۔ یہ کہنا کہ یہ کام ہم نے آگے بھی کیا ہے۔ ہمارا کسی نے کیا بگا ڑ لیا۔ ا۔ عقائد کے اندر شبہات یا عقائد باطله ۲ عمل باطل ۳۔ جزا و سزا کا انکار ۔ تمام شیطانی باتوں کی اصل الاصول یہی تینوں چیزیں ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۲) ٦٦ - إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا ۔ - ترجمہ۔ بے شک میرے بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں اور اے محمد! تیرا رب بس ہے کارسازی کو۔ تفسیر ۔ بے ریب! میرے بندوں پر تیرا کوئی تسلط نہیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۸۱)