حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 381
حقائق الفرقان ۳۸۱ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ہے۔ ہیرودیس کو بڑی خواہش تھی کچھ سیحی معجزے دیکھے۔ باوجود اصرار مسیح اس کے سامنے بولے بھی نہیں آخر اس نے ناچیز ٹھہرایا۔ غور کیجئے ۔ ذرا انصاف سے سنیئے ۔ انجیل میں لکھا ہے۔ اگر کسی میں رائی برابر بھی ایمان ہو تو پہاڑوں کو کہے یہاں سے وہاں چلے جاؤ تو وہ چلے جاویں گے۔ بیماروں کو ہاتھ رکھ کر چنگا کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ مرقس ا ا باب ۲۳۔ عیسائی انصاف سے کہیں۔ تمام دنیا میں کوئی عیسائی مومن ہے؟ یا سب کے سب کا فر ہیں؟ اگر کوئی ہے تو اپنے ایمان کو مرقس ۱۶ باب ۱۸ پر رکھ کر دیکھے ! اگر کہے کہ اس وقت معجزات کی ضرورت نہیں۔ تو ہم کہتے ہیں۔ ایسی ہی محمد صاحب کے وقت بھی ضرورت نہ تھی ۔ دوم اگر ان کے معنے جو آلایت میں ہے ۔ گل کے لئے جاویں تو یہ معنے ہوں گے۔ ہمیں گل معجزات بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا ۔ مگر اگلوں کا ان معجزات کو جھٹلانا ۔ یعنی جس قدر معجزات ہماری قدرت میں ہیں وہ سب کے سب ظاہر نہیں کئے گئے۔ پادری صاحبان ! اس سے بالکلیہ معجزے کی نفی نہیں نکلی ۔ اس کی مثال ایسی سمجھو۔ کوئی کہے میں نے کل مطالب بیان نہیں کئے ۔ اس کلام سے کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ قائل نے کوئی مطلب بھی بیان نہیں کیا۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۶۲، ۶۳) آپ کے دلائل نبوت اور علامات رسالت جن کو قرآن کریم نے آیات اور برہان کر کے تعبیر فرمایا ہے قانونِ قدرت میں مشہود اور قرآن میں موجود ہیں۔ اگر ان دلائل و معجزہ کہیں جس کے معنے ہیں غیر کو عاجز کر دینے والا یا خرق عادت کہیں تو بالکل بجا ہے۔ اول محمد صاحب کے وقت دنیا کی تاریخ پر نظر کرو ۔ جس ملک میں آپ پیدا ہوئے وہ کیسا تھا۔ عامہ عرب کسی مذہب کے پابند نہیں کوئی کتاب نہیں رکھتے۔ کوئی پتھروں کی پوجا کرتا ہے کوئی درختوں کی کوئی سیاروں کی کوئی بھوت اور پریت کی۔ جزا وسزا کے منکر ہیں۔ سیاست و تمدن کو نہیں جانتے۔ چوری ، قمار بازی، باہمی جنگ اور بغض اور عناد، جہالت، فخر اور کبران کی صفات ہیں اور شاعریت پر