حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 380 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 380

حقائق الفرقان ۳۸۰ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ - ہیں ۔ کسی چیز چیز نے ہمیں آیات کے بھیجنے سے نہیں روکا۔ اور کیا پہلوں کی تکذیب ہمیں روکتی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ چنانچہ دیکھو۔ نمود کے لئے اونٹنی بطور نشان بنائی ۔ ج ۔ جب انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ تو خمیازہ اٹھایا اسی سورۃ کے رکوع دس میں اخیر پر وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الهدى (بنی اسرائیل : ۹۵) کس چیز نے روکا ہے لوگوں کو ایمان سے۔ مگر اس نے کہ یہ بشر رسول ہے۔ یہ تو ایسی چیز نہیں۔ پھر یہ معنے ؟ معنے ہیں کہ بالایت میں آل کیسا ہے؟ استغراق کا ! تو مطلب یہ ہوا کہ کل آیات کے بھیجنے سے تو تکذیب روکتی ہے مگر بعض سے تو نہیں روکتی ۔ اگر بعض آیات مراد ہیں تو باقی بعض کے بھیجنے سے تکذیب الناس نہیں روکے گی۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه (۱۵۲) إلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا ۔ اور نہ اس بات سے منع کیا کہ پہلوں نے جھٹلایا۔ - تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۳) الايت عربی لفظ ہے دو کلموں سے بنا ہے ایک آل اور دوسرا آیات ۔ جو آیت کی جمع ہے۔ ان کے معنے عربی میں کبھی خاص کے آتے ہیں اور کبھی کل کے معنے دیتا ہے۔ اگر لفظ ان کے خاص کے معنے لئے جاویں تو آیت کا مطلب اور معنی یہ ہوں گے ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے ( جنہیں منکر لوگ طلب کرتے ہیں ) کوئی امر مانع نہیں ہوا۔ مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا۔ اس کے بعد کی آیت بھی ان معنوں کی تاکید کرتی ہے ۔ جس کا مطلب ہے۔ ثمود کی قوم نے ایک نشان مانگا۔ پھر انہوں نے تکذیب کی اور اس نشان پر ظلم کیا۔ اس قسم کے نشانات کی نفی صرف محمد صاحب ہی کے وقت نہیں ہوئی ۔ بلکہ غور کرو مرقس ۸ باب ۱۱ ۔ فریسیوں نے مسیح کے نشانات طلب کئے ۔ اس نے آہ کھینچ کے کہا۔ اس زمانے کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں ۔ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جاوے گا۔ اور جس نشان دکھانے کا وعدہ ہوتا ہے وہ بھی اب تک ظلمت میں ہے۔ اور لوقا ۲۳ باب ۸ میں ے اور کس چیز نے روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب ان کے پاس ہدایت آچکی ۔ A