حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 356
حقائق الفرقان ۳۵۶ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ٦ - فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَولَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلْلَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا - ترجمہ ۔ جب آیا ان دو میں سے پہلے فساد کا وعدہ تو ہم نے بھیجے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے تو وہ پھیل گئے شہروں میں اور وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔ L تفسیر - فَجَاسُوا ۔ جوس اور جو سان کے معنے ہیں کسی ملک میں چلنا پھرنا۔ مسلمانوں پر بھی یہ بات آئی۔ اللہ نے مسلمانوں کو بڑی سلطنت عطا کی تھی۔ اور ان کو وہ ملک عطا کیا گیا۔ جو سلیمان کو دیا گیا جو داؤد کو دیا گیا۔ جس پر عمالیق کو فخر تھا۔ پھر جب ان کے تقویٰ میں فرق آیا تو بالکل کمی ہو گئی ۔ سورۂ جمعہ میں آیا ہے۔ مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَيةَ ثُمَّ لَمْ يَحْلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ ( الجمعه : 1) بنی امیہ کے آخری بادشاہ کا نام مروان الحمار تھا۔ گو یا خدا نے سمجھا دیا کہ اب تم میں بھی : میں بھی یہود کی طرح حمار پیدا ہونے لگے ۔ اب ضرور ہے کہ یہود سا سلوک تم سے بھی ہو۔ چنانچہ ان سے سلطنت چھینی گئی ۔ پھر خدا نے فضل کیا اور عبدالرحمان کی معرفت سلطنت کا حصہ ملا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۹) بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔ پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر آخر خدا نے رحم کیا اور موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی۔ یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے اور وہ اپنے تئیں نَحْنُ ابْنُوا اللهِ وَ احِباؤُں کے سمجھنے لگے۔ لیکن جب پھر ان کی حالت تبدیل ہو گئی۔ ان میں بہت ہی حرام کاری ، شرک اور بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبردست قوم کو اللہ تعالی نے ان پر مسلط کیا۔ ستر برس وہ اس بلاء میں مبتلا رہے آخر جب بابل میں دکھوں کا زمانہ بہت ہو گیا۔ اور ان میں سے بہت سے صلحاء ہو گئے حتی کہ دانیال عزرا ، حز قیل، ارمیاہ ایسے برگزیدہ بندگان خدا پیدا ہوئے اور انہوں نے جناب الہی لے ان لوگوں کی مثال جن پر توریت لا دی گئی ہے پھر انہوں نے اس کو اٹھایا ہے (ان کی مثال ) ایسی ہے جیسے ایک گدھا ہے۔ ۲۔ یہ (الحمار ) اس کے اصل نام کا حصہ نہیں تھا۔ مرتب۔ سے ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔