حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 317

حقائق الفرقان ۳۱۷ سُورَة النَّحل ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو پکی پکائی روٹی دی جاوے۔ اسی طرح جب مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئیں گے تو لا تعداد زرو مال تقسیم کریں گے اور اس طرح پر گویا قوم کو سست اور بے دست و پا بنائیں گے اور قرآن کریم نے جو یہ اشارہ فرمایا تھا وَ أَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سعى (النجم :۴۰) اور حصر کے کلمہ کے ساتھ فرمایا تھا اس کو عملی طور پر منسوخ کر دیں گے۔ اس میں جو حصر کے کلمے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا یہ حکم منسوخ ہو جاوے گا۔ اور جناب مہدی کا یہی کام ہوگا ؟ سوچو اور غور کرو۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے کیا معنے ہیں۔ اس کے بعد جناب الہی ایک دوسری شہادت سناتے ہیں اور اس مثال میں آبگھ کا لفظ اختیار فرمایا ہے۔ پہلے آبگھ نہ تھا۔ اس لئے کہ ہم کو غرض ہے کسی ایسے آدمی کو جو پیغام رسانی کر سکے۔ لیکن جبکہ وہ آنکھ ہے۔ کچھ بول ہی نہیں سکتا۔ بھلا وہ اس منصب کے فرائض کو کیونکر سر انجام دے گا ؟ غلام مت سمجھو۔ رَجُلَيْنِ ہیں۔ یعنی خر ہیں ۔ آدم سے لے کر اس وقت تک ان پر کسی نے سلطنت نہیں کی اس لئے اس میں ترقی فرمائی ہے۔ اس سے پہلے عبد کہا۔ اب رجلين ۔ اس سے میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ جڑوں میں عربوں میں ، تاریخ پتہ نہیں دیتی کہ وہ کبھی کسی کی رعایا ہوئے ہوں۔ انہوں نے کبھی کسی کے تسلط اور جبروت کو پسند نہیں کیا۔ اور یہاں تک آزاد ہیں کہ بذریعہ انتخاب بھی کل جزیرہ نما عرب پر ایک شخص حاکم ہو کر نہیں رہا۔ اب ان میں سے ہم پوچھتے ہیں کہ اس وقت جو بحرو بر میں فساد برپا ہو رہا ہے۔ اور دنیا میں بت پرستی فسق و فجور، ہر قسم کی شرارت اور بغاوت پھیل رہی ہے۔ کوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گم شدہ توحید کو از سرِ کو زندہ کرے اور مری ہوئی دنیا کو زندہ کر کے دکھا دے؟ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اس کے جلال وسطوت کو کھول کر سنا دے؟ وہ جو آبگم آنگن ہیں وہ کیا بتا سکیں گے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آبگم نوکر تو اپنے آقا پر بھی دو بھر ہوتا ہے۔ اس کو کھانا کھلانا اور ضروریات کے سامان کا تکفل کرنا خود مالک کو ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے اور پھر جہاں جاتا ہے کہ کوئی خیر کی خبر نہیں لا سکتا۔ اب پھر تم اپنی فطرت سے پوچھو۔ ہے اور یہ کہ آدمی کو وہی ملے گا جو اس نے عمل کیا۔