حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 316
حقائق الفرقان ۳۱۶ سُورَة النَّحل جب یہ بات ہے تو عرب و عجم کی تاریخ پر نظر کرو نہیں ! دنیا کی تاریخ کے ورق الٹ ڈالو۔ اور دیکھو کہ جس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا پر جلوہ گری کی ۔ کیا اس سے بہتر کوئی اور وجود اس قابل تھا کہ وہ دنیا کا معلم ہو کر آتا ؟ ہرگز نہیں۔ لوگوں کو سچے علوم ملتے ہیں۔ اور بابرکت اساتذہ کا اثر بھی ہوتا ہے لیکن یہ بات کہ حق سبحانہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو اور اس کے مقرب ہونے کے لئے اقرب راہ مل جاوے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کامل طور پر دنیا میں نہیں ہوا۔ زمانہ کے امراض پر پوری نظر کر کے مریضوں کی حالت کی کامل تشخیص کس نے کی تھی؟ کسی کا نام تو لو۔ جب معالجہ ہی نہ تھا تو شفاء کا تو ذکر ہی کیا۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفاء کامل کا نسخہ لے کر آئے اور مریضوں پر اس کا استعمال کر کے ان کو تندرست بنا کر دکھا دیا کہ یہ دعویٰ کہ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاء (بنی اسرائیل : ۸۳) بالکل سچا دعوئی ہے۔ اس وقت کی عام حالت پر نظر تو کرو تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں ایک بلا خیز طوفان بت پرستی اور شرک کا آ رہا تھا۔ کوئی قوم کوئی ملک، کوئی خاندان ، کوئی ملت ایسی نہ رہی تھی جو اس ناپا کی میں مبتلا نہ ہو۔ کیا ہند میں عالم نہ تھے؟ مجوسیوں کے پاس گھر اور دستور آگاہ نہ تھی ؟ یہود کے پاس بائیبل اور طالمود نہ تھی؟ عیسائیوں کی روما کی سلطنت نہ تھی ؟ مصریوں کے ہاں علم کا دریا نہ بہتا تھا۔ کیا خاص عرب میں بڑے بڑے طلیق اللسان اور فصیح البیان شعراء موجود نہ تھے ؟ مگر قوم کی امراض نہیں، بلکہ ملک کی بیماریوں، نہیں نہیں۔ دنیا کو تباہ کر دینے والی بلا کی کس نے تشخیص کی ۔ وہ کون تھا جس نے شفاء اور نور کہلانے والی کتاب دنیا کو دلوائی ؟ جواب آسان اور بہت آسان ہے۔ بشرطیکہ انصاف اور سچائی سے محبت ہو کہ وہ پاک ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اصطلاح میں رزق اور مال سے کیا مراد ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جیسے اس زمانہ میں مولوی اور درویش کاہل اور سست اور ہاتھ پر ے اور ہم قرآن میں سے وہ آیتیں اتارتے ہیں جو شفاء ہے۔