حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 245

حقائق الفرقان ۲۴۵ سُورَةِ إِبْرَاهِيم اپنے ملک سے یا تم پھر جاؤ ہمارے مذہب میں تو اللہ نے جوان کا رب ہے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ضرور غارت کر دیں گے بے جا کام کرنے والوں کو ۔ تفسیر انسان کو جس چیز کی عادت یا الت پڑ جاتی ہے وہ اس کو چھوڑتا نہیں ۔ حُبُّكَ الشَّيء يُعنى وَيُصِم وہ محبوب کے عیوب کا بینا و شنوا نہیں ہوتا۔ انبیاء جب سچائی کو لاتے ہیں۔ ان کی تعلیم کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ عقائد کے متعلق جس کے دلائل بڑے کھلے ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ کو ماننا، فرشتوں پر ایمان لانا، کتب پر ایمان ، انبیاء پر ایمان، تقدیر پر ایمان، جزا وسزا پر ایمان، دوسرا حصہ عملدرآمد کا ہے جو تعامل کے نیچے ہوتا ہے۔ اس میں بھی کوئی مشکل نہیں ۔ مشترک تعامل دیکھ لے۔ بعض باتیں علمی تدبرات کے لئے ہوتی ہیں۔ مجتہدین و ائمہ دین کا امتیاز ایسے ہی مسائل پر ہوتا ہے۔ نبی جب آتے ہیں تو ایک گروہ ان کی تعلیم کو اپنی رسم و عادت والت کے خلاف دیکھ کر مقابلہ کے لئے اٹھتا ہے اور کفر و عناد میں یہاں تک پہنچتا ہے کہ کہہ دیتا ہے۔ لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۔ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے مگر کہ تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ ۔ او بمعنی حتی اور لاکن ہے۔ امراء القیس اپنے ساتھ والے کو کہتا ہے۔ جب اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے شاہ روما سے مدد لینے جاتا ہے اور کہتا ہے۔ فَقُلْتُ لَهُ لَا تَبْكِ عَيْنُكَ إِنَّمَا نُحَاوِلُ مُلْكًا أَوْ نَهُوْتَ فَنُعْنَرًا " ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۶) لے تیرا کسی چیز سے محبت کرنا ( تجھے) اندھا اور بہرا کر دیتا ہے۔ آپس میں نے اس (اپنے شریک سفر عمر وابن قمیئہ ) سے کہا تیری آنکھ (اپنے گھر والوں کے فراق پر ) نہ روئے۔ بے شک ہم بادشاہت کی تلاش میں کی ہیں ۔ (اسے حاصل کر لیں گے ) یا ہم مرجائیں گے اور معذور گردانے جائیں گے۔