حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 243
حقائق الفرقان ۲۴۳ سُورَةِ إِبْرَاهِيم ہیں اس سے جدھر تو ہمیں بلاتا ہے جو کہ دوسروں کو بھی شک میں ڈال دے۔ تفسیر - فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ ۔ اس کے دو معنے کئے گئے ہیں۔ لوٹائے ان کافروں نے ہاتھ اپنے نبیوں کے منہ پر یعنی بد معاش ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتے کہ آپ بات نہ کریں۔ ہم نہیں سننا چاہتے ۔ دوسرے معنے جو عَضُوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ( آل عمران: ۱۲۰) کے مطابق ہیں یہ کہ اپنے ہاتھ اپنے منہ میں ڈالتے تھے بوجہ شدت غیظ و غضب ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۶) ا قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ يَدْعُوكُمُ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى قَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُا بَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَن مبين - ترجمہ ۔ ان کے پیغمبروں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے جو آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو ۔ وہ کہنے لگے کیا بلاتا ہے تا کہ تمہاری مغفرت کرے گناہوں سے اور تمہیں رہنے دے وقت معین تک ۔ وہ - بات ہے تم بھی تو ہمارے جیسے آدمی ہو تم چاہتے ہو کہ ہم کو روک دو ان چیزوں سے جن کی پوجا ہمارے باپ دادا کرتے رہے تو لاؤ تو کوئی صریح دلیل ۔ تفسیر - آفي اللهِ شَا ۔ چار قسم کے لوگ ہیں ایک عام جو خواص سے سن کر ایمان لاتے ہیں دوم جو کتب پڑھ کر یقین کرتے ہیں ۔ سوم گروہ حکماء کا ہے جو عالم کے انتظام کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب ایک گھڑی خود بخود نہیں بنتی۔ تو یہ کارخانہ اتنا بڑا کارخانہ خدا کے بغیر کس طرح چل سکتا ہے۔ چہارم گروہ ہے اللہ کے پیارے بندوں کا جن کو یقین ہوتا ہے۔ اس لئے کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے اور انہیں اپنی قدرت نمائیوں سے یقین دلاتا ہے۔ یہ گروہ تعجب انگیز ترقی کرتا ہے اور خدا پر ترقی کرتا ہے اور خدا پر ایسا یقین رکھتا ہے کہ جو ذرا بھی شک رکھنے والا دیکھیں تو تعجب سے کہتے ہیں۔ کیا اللہ کے معاملہ میں بھی شک ہو سکتا ہے؟