حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 241
حقائق الفرقان ۲۴۱ سُورَة إِبْرَاهِيم وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنْجُكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَ فِي ذَلِكُمْ بَلَاءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ - ترجمہ ۔ اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم کو ، اللہ کے وہ احسان یاد کرو جو تم پر ہیں جب اُس نے تم کو بچا لیا تھا فرعون کے لوگوں سے وہ تم کو بری تکلیفیں دیتے تھے اور تمہارے مردوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کی حیا دور کرتے تھے اور اس میں بڑا انعام تھا تمہارے رب کی طرف سے۔ تفسیر - يُذَبِّحُونَ ابْنَاءكُمْ ۔ جوتو میں اکٹھی رہتی ہیں ظالم لوگ اکثر ان کو بیگار میں پکڑ لیتے ہیں جیسا کہ سکھوں کے عہد میں جولا ہوں کو پکڑ لیتے تھے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بھی فرعون نے یہی معاملہ کیا مگر محنت سے جب ان کی اولا د قوی ہونے لگی تو پھر اس کو قتل کرنے کی تدبیریں سوجھیں ۔ بلا ۔ خدا کا بھاری انعام کہ موسیٰ کو بھیج دیا۔ وہی بنی اسرائیل کہ جو بیگار میں پکڑے جاتے تھے۔ آخر جب تک خدا کے حکموں کے مطیع رہے۔ فاتح بھی ہوئے۔ عمار بن یاسر کے ساتھ کیا کیا سکے والوں نے؟ اور اس کی ماں کے ساتھ کیا کیا ؟ اس کی شرمگاہ میں نیزہ مار دیا اور ایک ٹانگ ایک اونٹ سے اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے باندھ کر مخالف طرفوں میں چلائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کو فاتح بنایا۔ انہوں نے نہ صرف عرب کو فتح کیا بلکہ چین و تا تار تک پہنچے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۱۳۵، ۱۳۶) وَ إِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ - ترجمہ ۔ ۔ اور جب خبر دار کر دیا تم کو تمہارے رب نے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں ( خود ) تم کو اور زیادہ کردوں گا اور اگرتم ناشکری کرو گے تو میری مار بڑی سخت ہے۔ تفسیر۔ ایک شخص کو گدا کی عادت تھی ۔ دن بھر لقمہ لِلہ کے لئے پھرتا رہتا۔ آخر اس نے کعبہ اے یعنی مانگنے سوال کرنے ۔ مرتب