حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 230
حقائق الفرقان ۲۳۰ سورة الرعد كَتَبْتَنِي مِنَ الْأَشْقِيَاء فَا مُحُ اسْمِي مِنَ الْأَشْقِيَاء وَاكْتُبْنِي فِي السُّعَدَاء میں ایک دفعہ سخت ابتلاء میں تھا۔ ایک میرے مجذوب دوست نے مجھے کہا وَ اللهُ غَالِبٌ عَلَى آمرہ (یوسف: ۲۲) وہ تو اپنے حکم پر بھی غالب ہے۔ جس کو سنتے ہی وہ سب غم کا فور ہو گیا۔ (ضمیمه اخبار بدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۵) أمُّ الْكِتُبِ - أَصْلُ الْأَشْيَاء - تشحذ الاذهان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۱) ۴۲ - أَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ - ترجمہ ۔۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا دین آ رہا ملک میں امرا اور غرباء کو گھٹاتا ہوا۔ اور اللہ حکم کرتا ہے اور اس کے حکم کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ تفسیر - أَطْرَافِهَا ۔ عربی زبان میں حاکم محکوم ، امراء، غرباء، اغنیاء، فقراء کو کہتے ہیں۔ یہ گو یا نشان بتایا ہے کہ تم لوگوں نے مذہبی جنگ شروع کر دی۔ اچھا اب دیکھ لینا کہ ہم تمہارے اس ملک میں آ رہے ہیں۔ تمہارے امراء اور غرباء کو تعلیم قرآنی میں داخل کر کے تمہاری تعداد گھٹا رہے ہیں ۔ جو لوگ یہ معنے کرتے ہیں کہ دائرہ کے محیط کو ہم گھٹا رہے ہیں ۔ یہ غیر ضروری باتیں ہیں ۔ عوام الناس ایسی باتوں کو کیا سمجھتے ہیں ۔ ہے۔ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۔ یعنی تمہاری جلدی ہی خبر لی جاوے گی ۔ یہ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ کو کھولا ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۵) ہر زبان میں یہ محاورہ ہے کہ مکان سے مکان والے مراد ہوتے ہیں جسے محو میں ظرف بمعنی مظروف سے تعبیر کرتے ہیں۔ ذرامتی کی انجیل ا ا باب ۲۱ اٹھا کر پڑھو ہائے خور زین! تجھ پر افسوس ۔ ہائے بیت صیدا ! تجھ پر افسوس۔ کیونکہ یہ معجزے جو تم میں دکھلائے اگر صور و صیدا میں دکھلائے جاتے تو ے اگر تو نے مجھے بدنصیبوں، شقیوں میں لکھا ہے تو بد نصیبوں میں سے میرا نام کاٹ کر مجھے سعادت مندوں ، خوش نصیبوں میں لکھ دے۔