حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 229
حقائق الفرقان ۲۲۹ سورة الرعد - ارْسَلْنَا رُسُلًا - جواب یوں دیا ہے۔ کہ سب انبیاء کی بیبیاں اور اولاد تھی ۔ اس نبی میں نئی بات نہیں ۔ کوئی شخص جب تک گھر بار والا نہ ہو تمام کمالات انسانیہ کا مظہر نہیں ہوسکتا اور نہ تمام خلقت کے لئے نمونہ بن سکتا ہے۔ پس ضرور تھا کہ راست بازوں کی جماعت بیوی بچوں والی ہوتی ۔ جن لوگوں نے تقدس و تطہر کے لئے نکاح سے علیحدگی لازم ٹھہرائی۔ آخر سخت سے سخت بدکاریوں میں گرفتار ہوئے ۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ بیوی بچوں میں اتنا انہاک کہ خدا کو بھول جاوے نا جائز ہے۔ وَمَا كَانَ لِرَسُولِ ۔ ہر شخص کو نشان دکھا نا ضروری نہیں ۔ بعض تو بیعت ہی اس معیار سے کرتے ہیں کہ بیعت کے بعد آسائش ہو جاوے اور ہر ایک مراد پوری ہوتی جائے ۔ جو ذرا بھی خلاف مرضی ۔ کہہ دیں گے دیکھ لیا۔ فَإِنْ أَصَابَةُ خَيْرُ إِطْمَانَ بِهِ ۚ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ إِنْقَلَبَ عَلَى ہوا وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ (الحج: ١٢)۔ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ۔ ہر وقت کے لئے ایک قانون ہے۔ اسی کے ماتحت سب مقاصد حاصل ہو ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۴) سکتے ہیں۔ ٤٠ - يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَةً أُمُّ الْكِتَبِ - ترجمہ۔ اللہ مٹا دیتا ہے جو چاہے اور باقی رکھتا ہے جو چاہے اور اسی کے پاس ہے جڑ اور ماں کتاب کی۔ تفسیر - يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ کئی بادشاہتیں ایسی گزر چکی ہیں کہ ان کا اب کوئی نام بھی نہیں جانتا سب باتوں کا علم اللہ ہی کو ہے۔ یہ جو مقرر کرتے ہیں کہ دنیا سات ہزار برس سے ہے یا دو ارب سے یا سترہ صفر اس سے پہلے بڑھا کر اپنی قدامت دکھاتے ہیں۔ خدا کی ابدیت کے سامنے یہ اعداد کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے ۔ اسی لئے ہماری کتاب نے کوئی مدت مقرر نہیں کی ۔ فرعون نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ مَا بَالُ الْقُرُونِ الأولى (طہ: ۵۲) انہوں نے صاف سنا دیا۔ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي (طه: ۵۳) له مجھے کیا معلوم ۔ خدا کو سب علم ہے۔ میں بھی اس شخص کی نسل سے ہوں ۔جس نے کہا ۔ اِن كُنت لے پھر اگر اس کو نعمت مل گئی تو مطمئن ہو گیا اس سے اور اگر اس پر کوئی بلا آ پڑی تو الٹا پھر گیا اپنے منہ پر نتیجہ یہ کہ اس کی دین دنیا دونوں ٹوٹوں میں آئیں۔ ۲ پہلی بستیوں کا کیا حال ہے۔