حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 215
حقائق الفرقان ۲۱۵ سورة الرعد ۱۷- قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُم مِّنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَ لَا ضَرًّا ۖ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْلَى وَ الْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوَى الظُّلُمَتُ وَالنُّورُ : أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - ترجمہ ۔ تو پوچھ کہ آسمان اور زمین کا رب کون ہے تو ہی جواب دے کہ اللہ ۔ کہہ پھر یہ کیا تم نے اللہ کے سوا بنا رکھے ہیں دلی دوست جو اپنے نفس کے نفع اور ضرر کے بھی مالک نہیں ۔ کہہ دو کیا برابر ہو سکتا ہے اندھا اور آنکھوں والا ، یا برابر سمجھتے ہو اندھیرا اور اجالا یا انہوں نے بنارکھے ہیں اللہ کے برابر والے ایسے جنہوں نے کچھ پیدا کیا ہے اللہ کے جیسا کہ مشتبہ ہو گئی ہے ان پر دونوں کی پیدائش ۔ تم کہہ دو (نہیں) سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہی اکیلا بڑا غالب ہے۔ تفسیر۔ ایک آریہ کے اس سوال کے جواب میں کہ یہ عالم کس نے بنایا۔ تحریر فرمایا: قرآن کریم نے اس سوال کے جواب پر سینکڑوں دلائل دیئے ہیں۔ اور بطور نمونہ بعض دلائل کا ذکر فرماتے ہوئے دلیل لقی کا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا ہے ۔ الله خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - اللہ ہر ایک چیز کا خالق ہے۔ اور اس دعوی کی یہ دلیل دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بے ہمتا، اپنی صفات میں یکتا، اور افعال میں وہ لَيْسَ كَمِثْلِہ ہے۔ اور یہ تمام معانی الْوَاحِدُ کے ہیں ۔ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی نسبت بولا جاوے اور وہ سب پر حکمران و متصرف ہے اور سب کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور یہ معانی القہار کے ہیں۔ جب حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ پر اس کا اطلاق ہو۔ آریہ سماج بھی اللہ تعالیٰ کو الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ان معنی میں مانتے ہیں گو نتیجہ میں غلطی کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے یہاں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک انوپیم ست، ہیں چت، آنند ہے۔ ہے۔ اگر چہ عام ہنود بت پرستی کے باعث ایک کا کلمہ زبان پر کم لاتے ہیں کیونکہ عام طور پر یہ لوگ جب وزن کرتے ہیں۔ اول اور ایک کے بدلہ پنجاب میں تو برکت برکت کہتے ہیں۔ دوسری بار دو آ ۔ دو آ غالباً تمام ہندوستان میں یہی طرز ہوگا ۔