حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 177

حقائق الفرقان ۱۷۷ سُورَة يُوسُفَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هُذَا الْقُرْآنَ * وَ إن كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَفِلِينَ - ترجمہ ۔ ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں اعلیٰ درجہ کا بیان کیونکہ ہم نے وحی کی تیری طرف اس قرآن کی اور اگر چہ بے شک تو اس سے پیشتر بالکل بے خبر تھا۔ تفسیر - قصص - بیان یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں لفظ قصص ق پر فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس کے معنے ہیں بیان کرنا۔ بعض لوگ غلطی سے اس کے معنے کرتے ہیں قصے۔ قصہ اور لفظ ہے جوق کی زیر اور کسرہ کے ساتھ ہے اور اس کی جمع ہے۔ قصص (ق کے نیچے زیر کے ساتھ ) نبیوں میں سے حضرت رسول کریم ، حضرت نوع حضرت موسی ، حضرت ابراہیم علیم ال السلام والبركات بڑے اولوا العزم لوگ ہوئے ہیں۔ اور ان کا معاملہ حضرت یوسف علیہ السلام سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا معاملہ تو صرف بھائیوں یا ایک عورت کے ساتھ ہوا تھا اور وہاں تمام اقوام کی مخالفت کا بہت خوفناک مقابلہ پیش تھا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۹) - إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَابَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَجِدِينَ - ترجمہ۔ اور جب کہا یوسف نے اپنے باپ سے اے میرے باپ! میں نے دیکھے گیارہ تارے اور سیورج اور چاند وہ میری فرمانبرداری کر رہے ہیں۔ تفسیر رایت ۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اس کا نام خواب رکھتے ہیں ۔ مگر حضرت یوسف نے اس کو دیکھنا ہی فرمایا اور یہی اصطلاح صحیح ہے۔ وہ بھی ایک قسم کی بیداری ہی ہوتی ہے۔ جس میں دوسرے شریک نہیں ہو سکتے ۔ لي سجدِین ۔ میرے سبب سے وہ سجدہ میں گرے ہوئے ہیں۔ کوئی ایسا امر واقعہ ہوا ہے کہ وہ سب کے سب سر بسجود ہو رہے ہیں ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۲۹)