حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 166
حقائق الفرقان ۱۶۶ سُورَةٌ هُودٍ تھے اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طُرْفَةَ عَيْنٍ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ صفحه (۱۲۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے سورہ ھود نے بوڑھا کر دیا۔ اس میں کیا بات تھی ۔ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ تم سیدھی چال چلو ۔ نہ صرف تم بلکہ تیرے ساتھ والے بھی ۔ یہ ساتھ والوں کو جس نے حضور کو بوڑھا کر دیا۔ انسان اپنا ذمہ وار تو ہو سکتا ہے۔ مگر ساتھیوں کا ذمہ وار ہو تو کیونکر؟ بس یہ بہت خطرہ کا مقام ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلتوں سے اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے جو تمہارے امام کے ساتھ ہیں پورا ہونے میں معرض توقف میں پڑیں۔ موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کے ساتھ کنعان پہنچانے کا وعدہ تھا مگر قوم کی غفلت نے اسے محروم کر دیا ۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو ! اور خوب سمجھو غفلت چھوڑ دو اور اس نعمت کی قدر کرو جو آج کے مبارک دن میں پوری ہوئی ۔ میں پھر کہتا ہوں کہ فرماں بردار بن کر دکھاؤ۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶ مورخه ۵ رمئی ۱۸۹۹ ء صفحه ۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔ وہ کیا بات تھی جس نے آپ کو بوڑھا کر دیا ۔ وہ یہ حکم تھا ۔ فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ یعنی جب تک تو اور تیرے ساتھ والے تقویٰ میں قائم نہ ہوں وہ کامیابیاں نہیں دیکھ سکتے ۔ اس لئے تو سیدھا ہو جا۔ جیسا کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح پر یاد رکھو کہ ہماری اور ہمارے امام کی کامیابی ایک تبدیلی چاہتی ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستور العمل بناؤ ۔ نرے دعوے سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس دعوے کا امتحان ضروری ہے۔ جب تک امتحان نہ ہو لے کوئی سارٹیفکٹ کامیابی کامل نہیں سکتا۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) اے اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں، مجھے لمحہ بھر کے لئے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا ۔