حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 161
حقائق الفرقان ١۶١ سُورَةٌ هُودٍ آ پڑی تھی نوح اور ھود اور صالح کی قوم پر اور قوم لوط تم سے کچھ دور نہیں۔ تفسير - لا يَجْرِمَنَّكُمْ ۔ اللہ تعالیٰ کا تم سے قطع تعلق نہ کر دے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۸) - ۹۱ - وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ ۔ ترجمہ ۔ اور مغفرت چاہو تمہارے رب سے پھر اس کی طرف رجوع کروفرمانبرداری میں لگے رہو بے شک میرا رب سچی کوشش کا بدلا دینے والا سرا پا محبت ہے۔ تفسیر۔ جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے کسی حکم اور قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل اور انعام سے محروم کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔ استغفار انبیاء علیھم السلام کا اجماعی مسئلہ ہے۔ ہر نبی کی تعلیم کے ساتھ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ رَکھا ہے ہمارے امام کی تعلیمات میں جو ہم نے پڑھی ہیں استغفار کو اصل علاج رکھا ہے۔ استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمداً ہوں یا سہو اغرض مَا قَدَّمَ وَمَا آخر جو نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے۔ اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نارضامندیوں کو مَا أَعْلَمُ وَمَا لَا أَعْلَمُ کے نیچے رکھ کر اور آئندہ کے لئے غلط کاریوں کے بدنتائج اور بداثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان بدیوں کے جوش سے محفوظ فرما۔ یہ ہیں مختصر معنے استغفار کے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۵ مورخه ۲۶ فروری ۱۹۰۸ء صفحه ۳،۲) ۹۲ - قَالُوا يُشْعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَ إِنَّا لَنَا بِكَ فِينَا ضَعِيفًا وَ لَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَكَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزِ - ترجمہ۔ قوم نے کہا اے شعیب ! تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم تجھے ے ( اس دن انسان کو باخبر کیا جائے گا کہ ) اس نے کیا آگے بھیجا تھا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ جو میں جانتا ہوں اور جو میں نہیں جانتا۔