حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 159 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 159

حقائق الفرقان ۱۵۹ سُورَةٌ هُودٍ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے نہایت صحت بخش اور نجات دہ نصائح پر کان نہ رکھنے والے وضع النبی کے دشمن فطرت کی مخالفت میں قومی کو برباد کرنے والے موذی کدھر گئے ۔ ان کی بستی کی یہی خبر ہے جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ۔ ( تصدیق براہین احمدیہ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ (۶) سوال۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ کر پھینک دیں۔ پتھروں کا مینہ برسایا۔ جبرائیل نے پروں سے وہ شہر الٹا دیا۔ الجواب ۔ پھر کیا النبی کاموں میں یہ بڑی بات ہے۔ تمہارے مذہب (ہندو) کی رو سے تمام پرتھوی تباہ ہو جاتی ہے۔ سب کچھ جل بن جاتا ہے۔ اور جل بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ تو آگ بن جاتا ہے۔ سو وہ بھی تباہ ہو کر ہوا بن جاتا ہے۔ پھر وہ بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ بلکہ سب کچھ تباہ ہو کر صرف ایشور سامر تھیہ ہی باقی رہ جاتی ہے۔ بدکاروں شریروں کے لئے ایسے نمونے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ کیا تم نے جاوا، پمپائے کی تباہی کی آگہی حاصل نہیں کی ۔ اور جاوا، سینٹ پیری تو انہیں دنوں کے واقعات ہیں ۔ لوط کی قوم شریر حق کی دشمن حقیقت کی عدد تھی ۔ گندے اعمال اور خلاف فطرت کاموں میں منہمک تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔ ڈیڈی (بحر مردار ) کی جھیل ان کی تباہی کی زندہ نشانی ہے۔ اور ان کی بد عملی کا نمونہ بتانے کو انگریزی زبان میں ساڈومی کا لفظ موجود ہے۔ اس جہان میں ہمیشہ نظارہ ہائے قدرت خدا تعالیٰ کے نبیوں کی تعلیم کی تصدیق کے لئے واقع ہوتے رہتے ہیں۔ شریر ان کی خلاف ورزی میں تباہ ہوتے ہیں اور راست بازوں کی صداقت پر اپنی بربادی سے مہر کر جاتے ہیں ۔ پتھروں کا مینہ ہی تھا۔ جس نے حال میں سینٹ پیری بر باد کیا۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۴۲، ۲۴۳) DEAD SEA