حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 148
حقائق الفرقان الد ٧ سُورَةٌ هُودٍ ۴۵ - وَقِيلَ يَاَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيُسَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِي وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ - ترجمہ۔ اور حکم الہی ہوا اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے بادل تھم جا اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی جا ٹھہری اللہ کے جودی پہاڑ پر اور حکم ہو گیا دوری ہو ظالم قوم کو ۔ تفسير عَلَى الْجُودِي - اللہ کے فضل پر وہ کشتی ٹھہری۔ ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۵۹) ۴۷، ۴۸ - قَالَ يَنُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلُ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْكُن مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجِهِلِينَ - قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَ إِلَّا تَغْفِرُ لِي وَتَرْحَمْنِي اكُنُ مِنَ الْخَسِرِينَ - ترجمہ۔۔ اللہ نے فرمایا اے نوح ! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کے عمل بڑے ہیں تو تو وہ نہ پوچھ مجھ سے جس کا تجھے علم نہیں۔ میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے نہ ہو جانا۔ نوح نے عرض کی اے میرے رب ! تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تجھ سے پوچھوں جس چیز کا مجھے علم نہ ہو۔ اور اگر تو میری مغفرت نہ کرے اور میرا عیب نہ ڈھانے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں ٹوٹا پانے والوں میں سے ہو جاؤں گا ۔ تفسیر انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کا ادب کس طرح کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ یہاں بتایا ہے حضرت نوح نے اپنے بیٹے کے لئے دعا کی اس بناء پر کہ اہل کے بچانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نوح کو ایک ادب سکھاتا ہے۔ فَلَا تَسْتَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ - نوح! تو کیوں کہتا ہے؟ یہ میرا اہل ہے۔ جب ہے۔ جب ہمارا وعدہ تھا تو ہم کو خود ہی اس کا پاس تھا ۔ تم کیا جانو کہ یہ تمہارے اہل میں سے نہیں ۔ اب دوسری بات دیکھو کہ اس طریق ادب کے سکھانے کے جواب میں اگر ہم ہوتے تو کیا کہتے ۔ مجھے نبیوں کا علم