حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 147
حقائق الفرقان ۱۴۷ سُورَةٌ هُودٍ حضرت نوح کے پاس کون سا جتھہ تھا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا آمَنَ مَعَةَ إِلَّا قَلِيلٌ ۔ مگر جب وقت آیا تو ایک ہی دعا سے سب کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ ( تشحید الاذہان جلد ۶ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۱ ء صفحہ ۳۵۷) سوال۔ چند فیٹ لمبی چوڑی کشتی میں روئے زمین کے تمام چرند پرند، در ندمع خوارک گپ ہے۔ الجواب۔ نوح کی کشتی کتنے فیٹ تھی ۔ چند فیٹ تھی۔ یہ تم نے قرآن پر افتراء کیا ہے۔ چند فیٹ لمبی یہ بھی جھوٹ اور افتراء ہے۔ چند فیٹ چوڑی یہ بھی افتراء ہے۔ روئے زمین یہ بھی افتراء ہے۔ تمام چرند پرند ، درند یہ بھی افتراء ہے۔ مع خوراک یہ بھی افتراء ہے۔ اتنے افتراءاور راستبازوں سے جنگ کر کے کامیابی کی امید؟ زیر اعتراض یہ آیت ہے۔ قُلْنَا احْمِلُ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ اوّل اس میں من کا لفظ ہے جس کا ترجمہ ” سے “ اور ” بعض“ ہے۔ کل کا لفظ ہر ایک موقع کے لئے الگ الگ معنی دیتا ہے۔ قرآن کریم کے محاورات دیکھو۔ ایک عورت یمن کے بادشاہ کی نسبت فرماتی ہے۔ أُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْی (النمل: ۲۴) مجھے کل شے دی گئی ۔ اور ذوالقرنین کی نسبت ہے اتيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا (الكهف : ۸۵) ہم نے اسے کل قسم کے اسباب دیئے ۔ اب کیا اس کل سے یہ مطلب ہے کہ دنیا کے جزوی و کلی اسباب سے ایک ذرہ بھر باقی نہیں رہا تھا۔ جوان کے قبضہ میں نہ آیا ہو؟ یہ تو قانون قدرت اور عادۃ اللہ اور عادۃ الناس کے خلاف ہے۔ ہر ایک بولی میں یہ لفظ اپنے اپنے رنگ میں آتا ہے۔ جیسے ہماری زبان میں ”سب“ کا لفظ ہے اور متکلم ذہن میں آ ذہن میں ایک بات رکھ کر بولتا ہے۔ اور مخاطب متکلم کے معہود فی الذہن منشاء کے موافق عین موقع پر اسے اتارتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی ضروری اشیاء میں سے جو تجھے مطلوب اور تیرے کام کی ہیں کہ ہیں کشتی میں اٹھا لے۔ اس میں کہاں لکھا ہے کہ تمام چرند پرند اور درخت اس میں رکھ لئے گئے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۹، ۲۴۰) لے اس کو ہر ایک قسم کی نعمت دی گئی ہے۔ ہے اس کو دیا تھا اکثر ضروری سامان ۔