حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 131
حقائق الفرقان ۱۳۱ سُورَة يُونُسَ ۹۵- فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَسُلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ - ترجمہ ۔ پھر اگر اے مخاطب تو شک میں ہے اُس چیز سے جو ہم نے اتاری تیری طرف تو تو پوچھ لے ان لوگوں سے جو پڑھتے رہتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے بے شک تیرے پاس حق آچکا تیرے رب کی طرف سے تو تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ تفسیر فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ ۔ یعنی اے شک کرنے والے اگر تو شک میں ہے۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ فعل سے فاعل مشتق ہو جاتا ہے۔ پارہ ۱۵ سورہ بنی اسرائیل میں پڑھیئے کہ فَلا تَقُل لَّهُمَا أَن وَلَا تَنْهَرْهُمَا ( بنی اسرائیل: ۲۴) حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیم تھے۔ پس وہ مخاطب نہیں ہیں ۔ اگر یہاں ما انزلنا اليك آیا ہے تو اس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت ثابت ہو گی۔ کیونکہ سورہ اعراف میں ہے۔ اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ (الاعراف: ۴)۔ تكونن ۔ اے مخاطب نہ ہو شک کرنے والوں سے ۔ ا ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر۷ مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۲۳) ۹۹- فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ مَتَّعْنَهُمُ إِلى حِينٍ - ترجمہ۔ کیوں نہیں ایسی بستیاں ہوئیں جو ایمان لائیں تو ان کا ایمان انہیں نفع دیتا، رہی یونس کی قوم ( یعنی وہ ایسی تھی کہ ) جب وہ ایمان لائی تو ہم نے ہٹا لیا اُن سے ذلت کا عذاب دنیا میں اور ہم نے ان کو فائدہ لینے دیا جئے تک ۔ تفسیر فَلَوْ لا كَانَتْ قَرْيَةٌ - عرب میں بھی ایک امن کی بستی حَرَما آمِنًا (قصص : ۵۸) كَانَتْ امَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ (قریش: ۵) اس کو سمجھایا ہے کہ ایمان لائے ۔ یونس کی قوم کی طرح - ا تو اُن کو ہوں بھی نہ کہنا اور نہ جھڑکنا ۔ ۲۔ تم اتباع کرو اس کتاب کی جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوئی ۔ سے امن والے حرم - ۴ ہر قسم کے خوف سے امن میں رکھا۔