حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 124

حقائق الفرقان المولد سُورَة يُونُسَ شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمُرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنْظِرُونَ (یونس : ۷۲)۔ کیا اس کلام کو پڑھ کر یہ شک بھی رہ سکتا ہے کہ نبیوں کو جتھوں کی پرواہ ہوتی ہے۔ پھر حضرت موسی کے واقعات پر غور کرو کہ جب آگے دریائے نیل تھا اور پیچھے فرعون کی فوج ۔ اس وقت اصحاب موسیٰ نے کہا انا لمدركون الشعراء : ٢ (الشعراء: (۶۲) مگر حضرت موسی کس اطمینان سے کہتے ہیں کہ گلا ۚ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء: (۱۳) پس مکہ شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صبر اس لئے تھا کہ یہ لوگ کسی طرح سمجھ جاویں۔ کبر ۔ برا لگتا ہے۔ فَعَلَ کا وزن ایسے ہی معنوں کے لئے مخصوص ہے۔ عَلَيْكُمْ غُمَّةَ - چھپ چھپ کر نہ کرو بلکہ کھلم کھلا مخالفت کرو۔ کھلے بندوں زور لگاؤ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر۷ مورخه ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۲۲ ، ۱۲۳) میرا بھروسہ خدا پر ہے۔ تم سب جمع ہو کر جو حیلہ چاہو کر لو۔ اور ایسا کرو کہ تم کو اپنی کامیابی میں کوئی شک و شبہ نہ رہے اور کوئی مفر میرے لئے نہ رہنے دو۔ پھر دیکھ لو کہ تم نا کام اور میں بامراد ہوتا ہوں کہ نہیں۔ پس ایسے ایسے موقعوں پر خدا تعالیٰ اپنے مرسلوں کے دشمنوں کو بے دست و پا کر کے بتلاتا ہے کہ دیکھو۔ میں اس کا محافظ ہوں کہ نہیں اور یہ ہمارا مرسل ہے کہ نہیں۔ غرضیکہ انبیاء کی بعثت میں ایک سر ہوتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے البی تصرف اور اقتدار کا پتہ لگتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه (۱۲) ۴۔ فَكَذَّبُوهُ فَنَجَيْنَهُ وَ مَنْ مَّعَهُ فِي الْفُلْكِ وَ جَعَلْتُهُمُ خَلِيفَ وَ أَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذِرِينَ - ترجمہ ۔ پھر بھی لوگوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اس کو نجات دی اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی میں لے تو تم بڑی بڑی کمیٹیاں کرو اپنے ساتھ والوں کو ملا ملا کر اور کھل کر پھر تمہاری رائے تم پر مخفی نہ رہے پھر مرسب سب کے سب ٹوٹ پڑو مجھ پر اور ایسے وقت تم مجھے مہلت بھی نہ دو۔ ۲ ہم تو پکڑے گئے۔ سے ہر گز نہیں ہرگز نہیں ۔ بے شک میرے ساتھ تو میرا رب ہے وہ مجھے جلد راستہ بتادے گا قریب کا ۔