حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 94
حقائق الفرقان ۹۴ سُورَةُ التَّوبة ظاہر کو باطن سے اور باطن کو ظاہر سے ایک تعلق ہے۔ رسول کریم کے حضور آدمی آئے ۔ ایک نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جگہ ہے۔ وہ تو جرات کر کے وہاں چلا گیا۔ دوسرے کو شرم آئی ۔ وہ آگے نہ ہوا۔ سب سے پیچھے بیٹھ گیا۔ تیسرے نے دیکھا کہ جگہ نہیں ہے۔ اس نے اجتہاد کیا کہ میرا بیٹھنا فضول ہے۔ چلا گیا۔ نبی کریم کو وحی ہوئی کہ جس نے شرم کی اس کے گناہوں کی پکڑ میں اللہ بھی شرم کرے گا۔ جو چلا گیا وہ بدنصیب ہے۔ نبی وراستباز کی صحبت میں بیٹھ رہنے سے بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ خواہ کچھ نہ سنے نفس ” بیٹھنا“ بھی ان انوار و برکات سے حصہ دلا دیتا ہے۔ میں اپنے بچوں کو بھی قرآن شریف سنایا کرتا ہوں ۔ اب کوئی یہ نہ جانے ۔ یہ کیا سمجھتے ہیں کیونکہ اس کا اثر کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ ایک عورت بیار تھی اور وہ اس حالت مرض میں جرمن ہوتی تھی۔ لوگ حیران تھے۔ مگر آخر معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر میں کسی پادری کی زبان سے جرمنی زبان کا لیکچر سنتی تھی۔ اس نہانی اثر کی وجہ سے مرض میں جرمن بولتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیدا ہوتے ہی اذان سنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ لغو فعل نہیں بلکہ اس کا اثر آئندہ عمر پر پڑتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۱۹)