حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 89

حقائق الفرقان ۸۹ سُورَةُ آل عِمْرَان حج کے اعمال کبرو بڑائی کے سخت دشمن ہیں۔ زیب و زینت کو ترک کرنا ، غرباء کے ساتھ ننگے سر کوسوں چلنا ، دنیا داروں ، مستوں ، عیاشوں کو کیسی کیسی ہمت بڑھانے کا موجب ہے۔ غرض حج کیا ہے۔ اسلامیوں کو تجربہ کار اور ہوشیار بنانا۔ ہے۔ بے ریب ایک ملک کے فوائد کو دوسرے ملک تک پہنچانے میں جیسی طاقت دولتمند رکھ سکتے ہیں ویسی علی العموم غریب لوگ نہیں رکھ سکتے ۔ ایسے صدر مقام کے لئے کونسا مکان تجویز ہوتا ۔ پس مکہ معظمہ سے کوئی مکان بہتر نہ تھا کیونکہ اول تو وہ مقام مبدا اسلام تھا ۔ دوم اس میں ایسے لوگوں کی یادگاری تھی جن کی سعی اور کوشش سے سخت سے سخت بت پرستی کا دنیا سے استیصال ہوا اور خالص البی توحید قائم ہوئی۔ تمام مساعی جمیلہ اشاعت اسلام کے جن لوگوں سے سرزد ہوئے ان کا اصل مولد وہی شہر تھا اگر کوئی چیز یادگار جوش دلانے والی دنیا میں ہو سکتی ہے تو مکے سے بہتر کوئی بھی نہیں۔ الا امراء کے ساتھ جن پر حج فرض ہے ممکن بلکہ ضرور تھا کہ ان کے نوکر چاکر بھی حج کرنے کو ساتھ جاویں اور کچھ لوگ غرباء میں سے عشق کے مجبور کئے ہوئے بھی وہاں پہنچیں ۔ اس لئے اسلام نے بغرض کمال اتحاد اہل اسلام تجویز فرمایا کہ سب لوگ سادہ دو چادروں پر اکتفاء کر کے امیر و غریب یکساں سر سے ننگے، گرتے سے الگ ، سادہ وضع پر ظاہر ہوں تاکہ ان کی یکتائی اور اتحاد کامل درجے پر پہنچے۔ ا۔ اس حالت کا نام احرام ہے۔ کچھ عقلی حُسن اس کا سن چکے ہو کچھ اور سن لو۔ زیب وزینت کی پہلی سیڑھی حجامت بنوانا بال کٹوانا ہے اور اس کی ان ایام میں ممانعت ہے جو وضع کے پابندوں کو محال نظر آتی ہے اور کتب مقدسہ میں اس طرز کی نظیر موجود ہے۔ نذیر کے سر پر اُسترا نہ پھیرا جائے جب تک وے دن جن میں اُس نے اپنے آپ کو خداوند کے لئے نذر کیا ہے۔ گزر نہ جاویں۔ سر کے بال بڑھنے دے ( گفتی ۶ باب ۵) ۲۔ پھر اس مسجد میں جس کے وجود اور جس کی عظمت کا عنقریب ہم ثبوت دیں گے ابراہیمی عبادت کی طرح پر ایک عبادت ہے جسے طواف کہتے ہیں ۔ پروانہ وار چند بار النبی مسجد کے گرد گھومنا