حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 88
حقائق الفرقان ۸۸ سُورَةُ آل عِمْرَان جائے عالمگیر مذہب میں جس کا نام اسلام ہے مناسب نہ سمجھی ۔ زیادہ دیر تک اجتماع کو مخلِ صحت خیال کر کے اصل نماز سے اس نماز کو نصف کر دیا گیا اور ایک خطیب (اسپیکر) کو حکم دیا گیا کہ ضروریات پر کھڑے ہو کر لیکچر دے اور بعد ختم نماز جمعہ کے حکم ہے چلے جاؤ اور منتشر ہو جاؤ قصبات اور دیہات کے اجتماع کے لئے عید کی نماز تجویز ہوئی۔ چونکہ یہ جلسہ بھاری اور سال میں گل دو دفعہ ہوتا تھا اور اس میں لوگوں کی کثرت تھی اس لئے تبدیل لباس اور عطر و خوشبو لگانا جیسے جمعے میں حکم تھا اس میں بھی رہا اور زیادہ تر اجتماع کے لحاظ سے حکم ہوا ۔ عید کا جلسہ شہر سے باہر میدان میں ہو تا کہ فریش ایئر ( تازہ ہوا) کی روک نہ رہے۔ چونکہ میدان محلِ انجمن ٹھہرا اور غالب عمرانات میں دھو۔ دھوپ کا خوف ہوا اس لئے ابتدائے روز عید کا وقت ٹھہرایا گیا۔ عید میں روحانی محرک دو رکعت کی نماز ہے اور بعد نماز کے ضروری ضروری باتوں پر لیکچر ہے ( جسے خطبہ کہتے ہیں ) ۔ تمام قوموں میں میلوں کا رواج ہے اور میلوں کا ہونا عمدہ مصالح دُنیوی پر مبنی ہے۔ کل مذاہب اور تمام اقوام کے میلے خالص توحید سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ کہیں غیر اللہ کی پرستش ہے کہیں صرف دُنیوی خیال ہے جو فانی اور غیر باقی ہے۔ اُن کو عظمت الہی سے کچھ سروکار نہیں ۔ اسلامی میلہ عید کا دنیا کے میلوں سے روحانیت میں بڑھا ہوا ہے۔ اب تمام اہل اسلام کے اجتماع کے لئے صدر مقام کی ضرورت تھی تا کہ مختلف بلاد کے بھائی اور اسلامی رشتے کے سلسلے میں یکتا باہم مل جاویں مگر ایسے اجتماع کے لئے اوّل تو کل اہلِ اسلام کا اکٹھا ہونا اور امیر و فقیر کا جانا محال تھا۔ علاوہ بریں فقراء اور محتاجوں کے جانے میں کوئی بڑے فائدے مترتب ہونے کی امید بھی نہیں ہو سکتی تھی اس لئے حکم ہوا وَ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا اور یہ بھی ہے کہ امراء کے حق میں عیش اور کبر ہی مہلک امراض اور ترقی کے دشمن ہیں ۔ دور و دراز کا سفر کرنا ، احباب اقارب کو چھوڑ نا ، سردی اور گرمی کی برداشت کرنا، مختلف بلاد کے علوم اور فنون اور اقسام مذاہب اور عادات پر واقف ہونا سستی اور نفس پروری کا خوب استیصال کرتا ہے۔ اور اقار لے اور واسطے اللہ کے لوگوں پر ہے حج کرنا اس گھر کا جو پاسکے طرف اس کے راہ ۔