حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 46 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 46

حقائق الفرقان ۴۶ سُورَةُ آل عِمْرَان کہا تھا۔ یہ تو معمولی بات ہے۔ میں نے اسے کہا کہ آپ نے اگر کوئی ایسا مردہ زندہ کیا تو بتاؤ تو وہ دم بخودرہ گیا۔ وَ انَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ ۔ اس کے یہ معنے غلط ہیں کہ لوگوں کو ان کا کھایا پیا بتا دیتے تھے۔ یہ نبیوں کا کام نہیں ہوتا ۔ طبیبوں کا ہو سکتا ہے۔ نبی تو کھانے پینے اور ذخیرہ رکھنے کے متعلق احکام بتاتے ہیں۔ پس عیسی کہتے ہیں میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں اس بات پر کہ تمہیں کیا کیا چیز کھانا حلال ہے اور مال میں سے کتنا حصہ نہ کتنا حصہ زکوۃ دینی چاہیے اور کیا پاس رکھنا چاہیے جائز ہے۔ میں ایک دفعہ ایک جگہ گیا تو وہاں ایک صاحب کی تعریف ہونے لگی کہ وہ جو کچھ رات کو کھایا جاوے بتا دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ وہ طبیب تھے ان کی دکان کے پاس ہی سبزی کی ایک ہی دوکان تھی پس وہاں سے خریدنے پر وہ دیکھ لیتے کہ آج ان کے گھر کیا پکا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۰) ان آیات کے معنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اسی سورۃ آل عمران کے ابتدا میں بتادیا گیا ہے کہ آیات دو قسم ہیں ایک محکمات ایک متشابہات ۔ محکمات ام الکتب یعنی اصل ۔ پس متشابہات کے ایسے معنے لئے جائیں گے جو گے جو محکمات کے خلاف نہ ہوں ! نہ ہوں اور ایسا ہر متکلم کے کلام کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنے نوکر سے کہتا ہے کہ آج ہم ریل پر سوار ہو کر فلاں مقام پر چلتے ہیں پھر سٹیشن پر جا کر اسے کہے کہ ٹکٹ لاؤ۔ تو اب اگر چہ ٹکٹ کئی قسم کے ہیں ڈاکخانہ سے بھی ٹکٹ ملتے ہیں۔ پھر ان کی بہت سی قسمیں ہیں لیکن محکم بات کے مطابق جب وہ اس متشابہ بات کے معنے لے گا تو ضرور ریل کا ٹکٹ لائے گا ۔ اسی طرح جب دوسری محکم آیات میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ خلق و احیاء وغیب دانی صرف اللہ ہی سے خاص ہے تو اب ان الفاظ کو عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کریں گے۔ تو چونکہ وہ ایک بشر تھے اس لئے ان کے وہ معنے نہیں لئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے لئے لئے جاتے ہیں اور مجازی معنے بھی ہم نہیں لیتے بلکہ لغت میں ایک لفظ کے کئی معنے ہیں پس جو معنی حضرت عیسی کے مناسب حال ہیں وہی لئے جائیں گے ۔ دوم یہ سورۃ عیسائیوں کی تردید ہے پس ایسے معنے نہیں لئے جائیں گے جس سے ان