حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 45
حقائق الفرقان لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا (النحل : ٢١) لده سُورَةُ آل عِمْرَان ابْرِيُّ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ۔ مذاہب عالم پر نظر کرنے سے ہندوؤں کا یہ مذہب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر دکھیارے کو کہتے ہیں۔ اس نے پچھلے جنم میں بدی کی ہے جس کی یہ سزا بھگت رہا ہے۔ قرآن شریف اس یہ عقیدہ کے مخالف ہے چنانچہ وہ مردوں کے لئے فرماتا ہے وَ مِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ " (المؤمنون ۱۰۱) اور مسیح بھی۔ چنانچہ آپ کے پاس ایک جنم کا اندھا آیا جو ان کی دُعا سے اچھا ہوا تھا۔ حواریوں نے سوال کیا کہ حضرت یہ جنم کے اعمال ما ہوا یا ماں باپ کے اعمال سے۔ آپ نے فرمایا دونوں باتیں غلط ہیں بلکہ یہ اس لئے اندھا ہوا تا خدا کا جلال ظاہر ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے وقت تناسخ کے خیالات بعض لوگوں میں تھے۔ قرآن شریف فرماتا ہے کہ مسیح نے بھی تناسخ کی تردید کی اور کہا کہمیں اکمہ اور ابرص کو مِمَّا تَعْمَلُونَ سے بری ٹھہراتا ہوں یہ پچھلے جنم کی بدیوں کی وجہ سے اکمہ یا ابرص نہیں ہوئے ۔ قرآن شریف میں مرض کے مقابلہ میں شفا کا لفظ ہے۔ سے اندھا ہوا احي الموتى - احیاء موتی تین طرح کا ہے۔ ایک اللہ کا جیسا کہ سورۃ بقرۃ میں حضرت ابراہیم نے کہا ربي الذي يُحْيِ وَيُمِيتُ ( البقرۃ:۲۵۹) اور ایک جگہ آیا هُوَ يُخي وَيُمِيتُ (یونس : ۵۷) وہی مارتا اور جلاتا ہے۔ خدا کے فعل کا تو کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ ایک احیاء موتی وہ ہے جو کفار نے موسی کے مقابلہ میں کیا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ (طه: ۶۷) ایک احیای موٹی انبیاء کا ہے چنانچہ نبی کریم کی نسبت فرمایا - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لهِ وَالرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال:۲۵) مسیح رسول تھا پس اس کا احیاء بھی رسولوں والا احیاء ہونا چاہیے ۔ وہ کیا ہے۔ بدوں کا نیک بن جانا۔ ایک شخص نے یہ معنے سن کر مجھے لے وہ تو کچھ بھی نہیں پیدا کر سکتے ۔ ۲ے اور ان کے آگے عظیم الشان ر کے آگے عظیم الشان روک ہے۔ ہے۔ سے میرا رب وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ وہی اللہ جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ ۵ پس یکا یک ان کی رسیاں اور لکڑیاں ۔ اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی باتیں سنا کرو جب وہ تم کو بلائیں اُن سے مُردے زندہ ہوتے ہیں ( یا وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں )۔ (ناشر)