حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 41
حقائق الفرقان ۴۱ سُورَةُ آل عِمْرَان عورتوں کے بچے پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں پھر بعض بچے گونگے بہرے ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ پیشگوئی میں مریم کو تسلی دیتا ہے کہ وہ گونگا نہیں ہوگا بلکہ کلام کرنے والا ہوگا۔ اس وقت جبکہ بچے بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ جیسا کہ بڑا سمجھدار ہو کر کلام کرے گا۔ گھلا کے معنے بخاری میں حلیم کے لکھے ہیں۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ وہ تیری زندگی ہی میں ادھیڑ عمر تک بھی پہنچ جاوے گا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۹) ۴۸- قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدُوَّ لَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - ترجمہ ۔ کہنے لگی اے میرے رب ! کس زمانہ میں وہ لڑکا ہو گا ابھی تو مجھے کسی بشر نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ فرمایا اسی طرح اللہ تعالی پیدا کر دیتا ہے جو چاہتا ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو بس اتنی ہی بات ہے کہ کہہ دیتا ہے ہو جا تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ تفسیر ۔ قَالَ كَذلِك ۔ اسی طرح ہو کر رہے گا جیسے کہا سورۃ مریم میں اسی گلایک پر وقفہ ہے۔ اللهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۔ اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ كن فيكون ۔ اس پر مجھے بار ہا سوال اُٹھا ہے کہ یہ کس موقعہ پر آتا ہے۔ تو میں نے جہاں تک دیکھا یہ حیات بعد الموت پر بولا جاتا ہے۔ سورۃ لیس میں ہے أَوَ لَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّبُوت ۔۔۔۔۔ (إلى) إِنَّمَا أَمْرَةً إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - فيكون - (آیت ۸۲، ۸۳) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۹) لے کیا وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ایک اندازے سے وہ اس بات پر قادر نہیں کہ پیدا کر دے انسان کو ( مرے بعد آخرت میں) کیوں نہیں وہ ضرور قادر ہے اور وہی بڑا پیدا فرمانے والا بڑا جاننے والا ہے۔ اس کے سوا نہیں کہ جب وہ چاہے کسی چیز کو بنانا تو وہ اس چیز کو کہہ دیتا ہے ہو تو وہ ہو جاتی ہے۔ ( ناشر )