حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 496
حقائق الفرقان ۴۹۶ سُورَةُ الْأَعْرَاف آ کر واعظ کی نقل لگایا کریں۔ پھر ایک اور مشکل ہے وہ یہ کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ واعظ ایک بات کتاب اللہ سے پیش کرتا ہے۔ اب اگر سننے والے میں بھی وہی عیب ہے جو اس واعظ نے بتایا تو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو سنا سنا کر یہ باتیں کرتا ہے۔ اور گویا مجھے طعنے دے رہا ہے۔ حالانکہ واعظ کے وہم میں بھی یہ بات نہیں ہوتی ۔ غرض دو طرفہ مشکلات ہیں ۔ ایک طرف واعظ کو اور ایک طرف سامعین کو ۔ فطرت کا خالق چونکہ اس بھید کو سمجھتا ہے اس لئے اس نے فرمایا - يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كثيرا ( البقرة : ۲۷) ۔ ( بدر جلد ۸ نمبر ۵۲ مورخه ۲۱ اکتوبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۹) ۲۰۴، ۲۰۵ - وَ إِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوا لَوْ لَا اجْتَبَيْتَهَا قُلْ إِنَّمَا اتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَى مِنْ رَبِّي هُذَا بَصَابِرُ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَ انْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ - ترجمہ۔ اور جب تو اُن کے پاس کوئی نشان نہیں لاتا تو کہتے ہیں تو اس کو کیوں کھینچ تان کر نہیں لا یا کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے میرے رب سے یہ دانائی کی باتیں ہیں ۔ تمہارے رب کی طرف سے ہدایت اور رحمت ہے ماننے والی قوم کے لئے ۔ اور جب قرآن پڑھا جاوے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تا کہ تم پر رحم کیا جاوے۔ تفسير - قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَى مِنْ رَبِّي هُذَا بَصَابِرُ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ وَ إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَ انْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: ۲۰۵،۲۰۴) اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) تو کہہ میں اس وحی قرآن کے سوائے اور کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا۔ یہی لوگوں کے واسطے بصیرت تھی ۔ مومنوں کے واسطے تو ہدایت اور رحمت یہ ہے ہی ، اگر کا فر بھی مان لیں تو ان پر بھی رحمت ہوگی ۔ (الحکم جلد ۱۵ نمبر ۵ مؤرخہ ۷ ر فروری ۱۹۱۱ء صفحه ۵) لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں مومن ( کیونکہ ان کے لئے ورحمته فرما چکا ) مخاطب نہیں ۔ مگر لوگ ہیں کہ الحمد امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا جھگڑالے بیٹھتے ہیں۔ اتنا نہیں سمجھتے کہ ے بہکاتا ہے اس سے بہتوں کو اور راہ پر لاتا ہے اس سے بہتوں کو اور وہ تو گم راہ نہیں کرتا۔