حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 483 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 483

حقائق الفرقان ۴۸۳ سُورَةُ الْأَعْرَاف دقیقہ اس نے فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ یہ شعر بھی اسی ریویو میں لکھا ہوا ہے۔ کہ سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے ۔ T دوسرا شخص وہ ہے جس نے ایک بڑی تفسیر طول طویل لکھی تھی جس تفسیر میں کثرت سے آیات اللہ کو تائید و تصدیق مسیح موعود میں تحریر کیا تھا اور اتین ایتنا (الاعراف: ۱۷۶) کا مصداق تھا وہ بھی مکذب ہو چکا ہے جس کی تکذیب اخبار بدر وغیرہ میں طبع ہو چکی ۔ یہ مضمون میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ کوئی صاحب یہ وہم اپنے دل میں نہ لاویں کہ ایسے لوگوں کا بدل جانا اس مسیح موعود سے اس کی صداقت اور حقیقت میں کچھ فرق پیدا کرتا ہو۔ حاشا وکلا ۔ بلکہ یہ تو سنت اللہ ہے جو قدیم سے ہوتی چلی آتی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ اسی لئے یہاں پر لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الاعراف: ۱۷۷) وغیرہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لوگ ہمیشہ غور اور فکر کرتے رہیں کہ ایسی تکذیب سے صداقت اور حقیت صادق میں کسی طرح کا فرق نہیں آسکتا بلکہ ایسے امور میں تفکر کرنے سے ایک طرح کی صداقت پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ کے وقت سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جیسا کہ احوال بلعم باعورا اور امیہ بن ابی الصلت سے واضح ہو گیا تو کارخانہ نبوت میں ایسے مرتدین کا وجود واسطے ظہور نشانات کے بھی سنت اللہ میں داخل ہو گیا ۔ وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ در کارخانه عشق از کفر ناگزیر است آتش کرا بسوزد گر بولہب نباشد اور جو ایسا مکذب ہو جاوے وہ مامور من اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔ بلکہ وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوا ۳ يَظْلِمُونَ (الاعراف: ۱۷۸) کا مصداق ہو جاتا ہے۔ لے تا کہ وہ بچیں۔ ۲۔ عشق کے کارخانہ میں کفر لازمی بات ہے۔ اگر ابولہب نہیں ہو گا تو آگ کس کو جلائے گی؟ اور وہ اپنا ہی کچھ نقصان کرتے رہے۔