حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 481
حقائق الفرقان لد ۱۷ سُورَةُ الْأَعْرَافِ با وجود ہونے صاحب ولایت کاملہ کے اور باوجود ہونے موحد عابد، زاہد کے مردود ہو گئے جیسا کہ آیت زیر تفسیر میں عبرت حاصل کرنے کے لئے ان کا قصہ ارشاد ہوا ہے اور اگر غور کیا جائے ۔ تو وہ شخص جو صد با آیات و نشانات صداقت کے دیکھ چکا ہو بلکہ اپنی زبان اور قلم سے ان صد ہا نشانات کو دنیا میں تبلیغ بھی کر چکا ہو ۔ اس کی تکذیب موجب عذاب ہونے میں سب سے زیادہ بڑھ کر ہوگی ۔ دیکھو اہل کتاب کو جو حافظ اور مفسر تورات وغیرہ کے تھے انہیں کو اولیكَ هُمْ شَرٌّ الْبَرِيَّة ( البينة : : ۷) فرمایا گیا ہے اور احادیث میں مولویان ریان مکذبین مسیح موعود کو عُلَمَا وُهُمْ شَرِّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ (مشكوة آء (مشکوۃ کتاب العلم) کلام نبوت میں وارد ہوا ۔ ہے۔ پھر آیت ھذا کے الفاظ پر غور کرو۔ اول تو لفظ انسلاخ کا فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم ایک جاندار کی کھال کا ادھیڑا جانا ہے۔ دیکھو جس ذی روح کو کہ مُنسلخ کیا جاوے اس کو کس قدر تکلیف ہوگی اور وہ حیوان مُنْسَلَخ کیسا مکر وہ اور فتیح معلوم ہوتا ہے۔ اس جگہ انسلاخ اسی لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نشانات الہیہ کو دیکھ کر پھر بھی ان کا مکذب ہو جانا ایسا ہے جیسا کہ جاندار کی کھال ادھیڑی جاوے اور اس سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ ایسا مکذب پھر مصدق بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ جبکہ کسی جانور کی کھال ادھیڑ لی جاوے تو پھر وہ کھال اس ذی جان کے جسم میں دوبارہ نہیں لگ سکتی اور یہ بھی مفہوم ہوا کہ قبل انسلاخ کے اس کھال کو اس جاندار کے ساتھ کمال اتصال تھا۔ مع هذا پھر بعد انسلاخ کے مبائنت تامہ ہو گئی ۔ پھر ایسا مکذب کیوں کر مصدق ہو سکتا ہے۔ الا مَنْ شَاءَ الله ۔ دوسری مذمت ایسے مکذب کی یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اب اس کے پیچھے شیطان ایسا لگ گیا کہ وہ یہ خود شیطان بن جاوے گا کیونکہ ایک قرأت میں فَا تُبَعَهُ الشَّيْطَانُ باب افتعال سے بھی آیا ہے۔ یعنی شیطان اس کا متبع ہے اور وہ شیطان کا بھی باپ یعنی متبوع ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کو ایسے مکذب کی کس قدر مذمت منظور ہے۔ پھر تیسری مذمت ایسے مکذب کی فرمائی گئی کہ وہ غوی اور غاوی ہو چکا یعنی سخت گمراہ ضدی ہو گیا۔ کیونکہ غاوی اس کو کہتے ہیں کہ جس کے ہدایت پانے کی امید نہ رہی ا یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں ۔ ۲۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔