حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 472
حقائق الفرقان ۴۷۲ سُورَةُ الْأَعْرَافِ کثرت کہ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا میں فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں ۔ یہ کوثر بلحاظ مکان کے عطا ہوئی۔ کوئی آدمی نہیں جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الہی میں اتباعِ رسالت پناہی کی ضرورت نہیں کوئی صوفی، کوئی بالغ مرد، بالغہ عورت ، کوئی ہو اس سے مستثنی نہیں ہو سکتے ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ / مارچ ۱۹۰۳ ءصفحہ ۱۵) قرآن مجید میں ایک عجیب اور عظیم الشان دعوی کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کسی قوم کے ہادی یا نذیر و مامور نے نہیں کیا اور وہ یہ ہے قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا یعنی اے نبی کریم ! کہہ دو کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں ۔ اس دعوئی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولوالعزمی ، آپ کی دعوت کی بے نظیری اور عالمگیری عیاں ہے ۔ آپؐ کی نبوت و دعوت کا دائرہ نوع انسان پر کھینچا گیا ہے۔ جہاں کہیں بھی کوئی انسان آباد ہے وہاں کوئی نبوت کوئی شریعت کوئی تمدن اگر حکومت و ہدایت کا موجب ہو سکتا ہے تو وہ وہی ہے جس کو اسلام کہتے ہیں ۔ اس لیے اسلام ایک عالمگیر مذہب کہلاتا ہے اور یہی وہ سر ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح نیشنلٹے کی تعلیم نہیں دیتا۔ بلکہ اس نے ہمیشہ ہیومینٹی کی تعلیم دی ہے۔ جبکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور نوع انسان کے لئے بہترین رہنما اور ہادی ہے تو یہ ضروری امر تھا کہ اس کے لانے والا اپنی زندگی میں ان تمام مراحل و شعبہ ہائے زندگی کا نمونہ رکھتا جن میں سے انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے دوسرا دعوی قرآن کریم نے یہ کیا وَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لئے ایک نمونہ ہے۔ الحکم جلد ۳۷ نمبر ۲ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۳۴ء صفحه ۹) ۱۶۲ - وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هُذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا تَغْفِرُ لَكُمْ خَطِيتِكُمْ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ - ترجمہ۔۔ اور جب ان کو کہا گیا آرام اور چین سے رہو اس بستی میں اور کھاؤ اُس میں سے جہاں چاہو اور کہو ہمارے قصور معاف کر اور دروازے میں داخل ہو فرمانبردار ہو کر تو ہم ( تمہاری حفاظت کریں