حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 465
حقائق الفرقان ۴۶۵ سُورَةُ الْأَعْرَافِ ۱۴۹ - وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيْهِمْ عِجْلًا جَسَدً الَّهُ خُوَارٌ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظُلِمِينَ - ترجمہ ۔ اور موسیٰ کے گئے بعد اس کی قوم نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا وہ ایک جسم تھا۔ ( بلا روح ) اس کی آواز گائے کی تھی کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات چیت نہیں کر سکتا اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے پس بنا ہی بیٹھے اس کو ( معبود ) اور وہ مشرک تھے۔ تفسیر۔ بچہ میں طمع ، حبّ غیر اللہ ، غضب، شہوت پہلے آ جاتی ہے اور قوت ممیز ہ، انبیاء کی تعلیم بعد میں ۔ یہ انسان کے لئے بڑی مشکل ہے۔ پھر رسم و عادت و صحبت کا اثر ہے۔ اس لئے خدا کی بات سمجھنے کے لئے فضل الہی درکار ہے اور بڑے مجاہدہ کی ضرورت ۔ فرعون جس کا تاج بھی گئو مکھی تھا اس کی قوم کے بداثر سے بنی اسرائیل بھی نہ بچے۔ اسی لئے ان میں گاؤ پرستی کا خیال رہا۔ حلِيهِمُ ۔ خود اپنے زیوروں سے ۔ له خوار ۔ آجکل کی صناعی کے لحاظ سے یہ قابل تعجب امر نہیں ۔ لا يُكَلِّمُهُم - برہمو۔ نیچری۔ فلاسفرانہ طبیعت کے لوگ بلکہ عامہ علماء غور کریں۔ یہاں معبودیت کی تردید اسی دلیل سے کی ہے کہ لا يُكَهُم پس وہ خدا کیونکر معبود ہو جو کلام نہیں کرتا ۔ لَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا - کلام کے ساتھ یہ شرط ہے کہ وہ کوئی عمدہ راہ دکھلائے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۸، ۱۰۹) وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيْهِمْ عِجْلًا جَسَدَ اللَّهُ خُوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب اتنا ہے کہ موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں اپنے زیور سے ایک بچھڑا بنایا جو صرف جسم تھا اس میں روح نہ تھی ہاں اس کی آواز تھی۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۹، ۲۲۰)