حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 421
حقائق الفرقان ۴۲۱ سُورَةُ الْأَعْرَافِ ۱۲، ۱۳ - وَ لَقَدْ خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوَّرُنَكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ * فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّجِدِينَ - قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ - امَرتكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ - ترجمہ ۔ ہم نے ہی تم کو پیدا کیا تھا ، ہم نے ہی تم کو تصویر ( یا صورت ) بخشی تھی اور ہمیں نے ملائکہ کو کہا تھا کہ آدم کی فرمانبرداری کرنا تو فرمانبرداری کی ملا رداری کی ملائک نے مگر ابلیس نے نہیں کی وہ فرمانبردار نہ ہوا۔ جناب الہی نے فرمایا تجھ کو کس نے منع کیا حکم کی فرمانبرداری کرنے سے اس نے کہا میں آدم سے بہتر ہوں مجھے پیدا کیا تو نے آگ سے اور اس کو مٹی سے ۔ تفسیر۔ بنو عامر کعبہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے یہ سمجھ کر کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کے ساتھ کیسے طواف کریں۔ اس لئے ان دو رکوعوں میں لباس کے متعلق ذکر آئے گا۔ اسْجُدُوا الأدم - یاد رکھو ۔ آدم کا ولد بھی آدم ہی ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۴) إِذْ أَمَرْتُكَ - شیطان کو خصوصیت سے حکم سجدہ ۔ یا د رکھو۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۴) ۱۶-۱۵ - قَالَ اَنْظُرْنِي إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ - قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ - ترجمہ ۔ ابلیس نے کہا ان کی ایک نئی پیدائش تک مجھے بھی مہلت دے۔ اللہ نے فرمایا تجھے مہلت دی گئی۔ تفسیر۔ مجھے بعثت کے دن تک مہلت دے۔ کہا یقینا تجھے وقت معلوم کے دن تک ڈھیل دی گئی۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹) إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۔ یعنی وہ وقت جب انسان خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے از سرِ نو زندہ ہوتا ہے اور شہوت غضب کے ساتھ مقابلہ کر کے فتح مند ہو جاتا ہے۔ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ۔ یہ قابلِ غور ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ يُبْعَثُونَ نہیں فرمایا۔ پس اگر يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے قیامت مراد ہو۔ تو بھی کوئی ہرج نہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۴)