حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 406
حقائق الفرقان ۴۰۶ سُورَةُ الْأَنْعَامِ برہمو سلسلہ رسالت کے منکر ہیں ۔ وہ تمام انبیاء کو مفتری قرار دیتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ انبیاء نے یہ کہنے میں کہ ہمیں خدا سے وحی ہوئی ہے دروغ مصلحت آمیز سے کام لیا ہے۔ پھر وہ ملائکہ کے منکر ہیں۔ نہایت لطیف پیرائے میں اس اعتقاد کو انہوں نے شرک عظیم قرار دیا ہے۔ گویا تمام قسم کی نیکی کی تحریکوں کے مخالف ہیں ۔ - غَرَّتْهُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا ۔ دنیا نے ان کو بڑا دھوکہ دیا ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی کھانا طلب کرتا ہے۔ پھر اس میں غضب پیدا ہوتا ہے پھر حرص ۔ چنانچہ ایک پستان چوستا دوسرے پر ہاتھ رکھتا ہے اور اپنے دوسرے بھائی سے پیر پیدا کر لیتا ہے۔ پھر غضب کے ساتھ ساتھ حبّ بھی بڑھتی جاتی ہے یہ سب قوتیں بہیمی کے کرشمے ہیں ۔ پھر شہوت میں ترقی ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہم نوجوانوں کے ہر روز آنے والے خطوط میں پڑھ رہے ہیں۔ غرض کھانا، پینا، بغض ، عداوت، حبّ ، شہوت ، حرص تو پہلے قبضہ جما لیتے ہیں اور انبیاء کی تعلیم اور عقل بعد میں آتی ہے۔ پھر یورپ ، امریکہ کے لئے تو اور بھی مشکل ہے۔ وہ جب ہوش سنبھالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کسی انسان کو خدا بنایا گیا ہے تو وہ ایسے لغو عقیدے کو دیکھ کر ان میں ہوش والے مذہب ہی کو ایک لغو اور جھوٹی چیز خیال کرتے ؟ کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے سامنے توحید کی پاک تعلیم نہیں آئی۔ پھر موجودہ ساز و سامان رہائش کچھ کم غافل کر نیوالا نہیں۔ غْفِلُونَ ۔ جب تک خدا کی طرف سے غافلوں کو خبردار کرنے والا آ نہ جائے ۔ عذاب نہیں آتا ۔ - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰۲) ۱۳۴ ، ۱۳۵ - وَ رَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ مِنْ بَعْدِكُمْ مَا يَشَاءُ كَمَا اَنْشَاكُم مِّنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمِ آخَرِينَ - إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَاتٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ - ترجمہ ۔ اور تیرا رب غنی اور رحمت والا ہے اس نے ارادہ کر لیا ہے کہ تم کو اڑا دے اور تمہارے قائم مقام بنائے تمہارے بعد جسے چاہے جیسا تم کو پیدا کر دیا دوسرے لوگوں کی نسل میں سے۔ جس چیز کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ وہ تو آپ ہی ہو کر رہتا ہے اور تم اسے کچھ تھکا نہیں سکتے۔ تفسير إِن يَشَايُذْهِبْكُمْ ۔ چاہیں تو کسی قوم کو تباہ کر دیں۔