حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 400
حقائق الفرقان لد ۔۔ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ۱۲۳۔ اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَ جَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَتِ لَيْسَ بِخَارِجٌ مِنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَفِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - ترجمہ ۔ بھلا ایک مردہ تھا پھر ہم نے اس میں جان ڈالی اور اس کو روشنی دی کہ اسے لئے پھرتا ہے لوگوں میں ۔ یہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جس کا یہ حال ہے کہ وہ گھٹا ٹوپ اندھیریوں میں پڑا ہے اور وہ وہاں سے نکل بھی نہیں سکتا۔ اسی طرح پسند آ گیا ہے منکروں کو جو وہ خود کرتے تھے۔ تفسیر - مَيْتًا - اَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (النحل: ۷۹) میں اس کی تفسیر ہے۔ جب تک انسان خدا کی فرمانبرداری کی تہ کو نہیں پہنچتا مردار ہی ہوتا ہے۔ لیکن جوں جوں خدا کی عظمت و جبروت کو سمجھتا ہے۔ زندہ ہوتا جاتا ہے۔ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلمت ۔ عقل و سمجھ و سچائی و کتاب الہی کا علم ۔ لوگوں میں بھی اس کا ذکر کرتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو افراد قوم ۔ ملک کی بہتری تو کجا اپنی بہتری کو بھی نہیں سمجھتے ۔ جانوروں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ لَيْسَ بِخَارِج مِنْهَا ۔ ہر روز ضرور سوچو کہ بہ نسبت کل کے تم نے خدا سے نزدیک ہونے یا مخلوق پر شفقت کرنے میں کیا ترقی کی تا سمجھ آئے کہ ظلمات سے نور میں یعنی بے تمیزی سے تمیز میں کہاں تک پہنچے۔ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ مَنِ اسْتَوهُ يَوْمَاهُ فَهُوَ مَغْبُونَ ۔ پس تم ضرور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو اور ایک پہچان نبوت کی بتلائی ہے۔ وہ یہ کہ اکابر جو ہوتے ہیں وہ انبیاء سے قطع تعلق کرنے والے ہوتے ہیں۔ تم خدا کی بڑائی کے لئے وعظ کرو۔ امیر تمہارے بھی دشمن ہو جاویں میرے سامنے کسی نے سوال کیا۔ کیشب ۔ دیانند ۔ سرسید ۔ مرزا صاحب چاروں اصلاح کے مدعی ہیں ان میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا یہی کہ اکابر صرف مرزا صاحب کے دشمن ہیں ! (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۰۱، ۱۰۲) ے تم کو پیدا کیا تمہاری ماؤں کے پیٹ سے تم کچھ بھی تو نہیں جانتے تھے ۔ ۲۔ جس کے دن ایک جیسے ہوں وہ فریب خوردہ ہے۔