حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 399
حقائق الفرقان ۳۹۹ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ۱۲۱ - وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ - ترجمہ۔ اور چھوڑ دو ظاہر کا گناہ اور باطن کا جو لوگ کماتے ہیں گناہ تو وہ قریب ہی سزا پائیں گے جو وہ بدکاریاں کرتے تھے۔ تفسير - وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَ بَاطِنَه - گناہ دو قسم کے ہیں۔ ایک ظاہر کرو ظاہر کسی کا مال چرا لیا دکھ دے دیا۔ جھوٹ بول لیا۔ ایک باطن یعنی مخفی گناہ مثلاً کینه ، بغض، حسد، تکبر ، دوسرے کی تحقیر ، حرص، کفر ، بعض لوگ خدا کے منکر ہیں بعض منکر نہیں ۔ مگر مان کر پروا نہیں کرتے۔ بعض اس خدا کے برابر کسی اور کو بھی قرار دیتے ہیں اور مثال دیتے ہیں کہ جیسے بادشاہ کے پاس بغیر وزیر نہیں جاسکتے ویسے ہی خدا کے حضور بجز وساطت نہیں جا سکتے ۔ یہ مثال غلط ہے کیونکہ بادشاہ بوجہ بشریت و عدم اطلاع معذور ہے۔ مگر خدا تو سب کی سنتا ہے۔ چھت کے لئے بے شک سیڑھی کی ضرورت ہے مگر خدا توا قرب سے اقرب ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ ۔ اب عام اصول بتلاتا ہے کہ جو گناہ کرے اس کے نتائج ضرور بھگتے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ عفو نہ کرے ۔ جن لذتوں کیلئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہی اس کے لئے وبالِ جان بن جاتی ہیں ۔ ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۱) ۱۲۲ - وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيْطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ ۔ ترجمہ ۔ اور اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ البتہ بدکاری ہے اور شیطان اپنے دوستوں کو وحی کرتے رہتے ہیں کہ تم سے لڑیں ( کج بحثی کریں) اور اگر تم نے ان کا کہا مانا پھر تو تم مشرک ہو جاؤ گے۔ تفسیر - لِيُجَادِلُوكُم - مثلاً چوہڑے کہتے ہیں کہ خدا کی ماری حرام اور تمہاری ذبح کی ہوئی حلال حالانکہ یہ ان کی غلطی ہے۔ ایک محبوب کے نام پر کشتہ ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مؤرخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۰۱)