حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 395
حقائق الفرقان ۳۹۵ سُورَةُ الْأَنْعَامِ قرآن نے مثال دی ہے کہ ایک شخص دور سے گھر دیکھ کر اسے پانی سمجھا۔ پانی کے لئے ۔ دوڑا جب وہاں تک پہنچا تو کچھ بھی نہ پایا۔ بلکہ پیاس اور بھی بڑھی ۔ دیکھو پارہ ۱۸۔ الَّذِینَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَاء (النور: ۴۰) بعض لوگ غلطی سے جو چیز مفید نہیں اسے مفید سمجھتے ہیں اور مفت کی شیخیاں بگھارتے ہیں۔ جیسے مسلمان آگے قلعہ فتح کرنے پر ناز کرتے تھے۔ اب بعض ایسے ہیں کہ کسی عورت سے ناجائز تعلق میں کامیاب ہوں تو کہتے ہیں ۔ ہم نے قلعہ فتح کر لیا۔ بد دیانتی یہاں تک بڑھی ہے کہ جو معمار ہیں ۔ وہ جان بوجھ کر عمارت ناقص بناتے ہیں پوچھو تو کہتے ہیں ہمارا کام کس طرح چلے اور پھر ہمیں کون بلائے ۔ حالانکہ ایسے لوگ ہمیشہ غریب رہتے ہیں۔ غرض انسان جس راہ پر اپنے تئیں ڈال لے۔ اسی کے موافق نتیجہ نکلتا ہے۔ دیکھو ۔ حق کو نہ ماننے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نُقَلِبُ اَقْدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ ، سمجھ بھی الٹی ہوگئی اور حق کے بینا نہ رہے پھر بڑھتے بڑھتے سرکشی میں بہکتا رہتا ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۰۱) ۱۱۲ - وَ لَوْ أَنَّنَا نَزَلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ - ترجمہ۔ اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ان کے سامنے ہم سب چیزیں اکٹھی کر لاتے تو وہ جب بھی ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہتا تو لیکن وہ تو اکثر نادان ہی ہیں ۔ - تفسیر وَ لَوْ أَنَّنَا نَزَلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةَ - یہاں تک کہ اگر فرشتے بھی اتریں۔ موتی کلام کریں تو بھی نہ مانیں۔ بڑے بڑے بدکاروں کو بدی کرتے کرتے نیکی کا خیال اٹھتا ہے یا کسی وقت ان کے دلوں میں بھی نیکی کی تحریک ہوتی ہے۔ اور پھر باوجود اس کے نزول ملائکہ نہیں مانتے ۔ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى ۔ یہ بھی اکثر لوگوں کو اتفاق ہوتا ہے کہ خواب میں کچھ ہدایت ہوتی ہے۔ مردہ ے اور جو لوگ حق کو چھپانے والے بے ایمان ہیں ان کے کام جنگلی ریت کے میدان کے جیسے ہیں، پیاسا تو اس کو سمجھتا ہے پانی۔