حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 393 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 393

حقائق الفرقان ۳۹۳ سُورَةُ الْأَنْعَامِ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ ترجمہ ۔ تم لوگوں کے معبودوں کو گالی نہ دو۔ وہ اس کے عوض میں جہالت اور زیادتی سے اللہ کو گالی دیں گے۔ اس مبارک تعلیم سے وید اور دوسری تمام کتا بیں محض بر ہنہ ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں کوئی ذاتی خوبی اور جو ہر نہیں۔ یہ کتا بیں اپنی جگہ بے زبان ہیں۔ کوئی دعوی اپنی دلیل کے ساتھ ان میں نہیں ۔ ہاں ان کے وکیلوں اور حامیوں کے منہ میں لا ریب سیاہ زہر دار کو برہ کی دوشاخی زبانیں ۔ یہ لوگ پادری اور آریہ اپنی کامیابی اور ظفر اسی میں سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی عیب چینی کریں۔ اپنی کتابوں اور عقیدوں کے معارف و اسرار کے اظہار سے انہیں کوئی غرض نہیں ۔ اگر مذاہب اور ملل اس پر اتفاق کر لیں کہ تمام حامیان دین اپنے مذہب و کتاب کی خوبیوں کے بیان کرنے پر اکتفاء کریں اور اس سے تجاوز نہیں کریں گے تو یقینا اس میدان میں گوئے سبقت قرآن کریم کے ہاتھ میں ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۷۴) قرآن کریم نے تمام مذاہب کے ان معبودوں کی دشنام دہی سے جن کو بت پرست پکارتے ہیں حکما قطعی ممانعت کر دی ہے جہاں فرمایا ہے۔ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۔۔۔۔۔ ایک نے جس کو عربیت کا دعویٰ ہے مجھے فرمایا قرآن کریم نے اگر گالی سے منع کیا ہے تو تعجب ہے کہ بتوں کے توڑنے کا کیوں تاکیدی حکم کیا ، اس وقت ان کی خدمت میں کہا گیا کہ آپ قرآن دانی کے بڑے مدعی ہیں ۔ از راہ مہربانی آیت کا نشان دیجئے جس میں قرآن کریم نے بتوں کے توڑنے کا تاکیدی حکم دیا ہے۔ ہاں کسی تاریخی واقعہ کے بیان میں اگر قرآن نے کہا ہے فلاں موحد بت پرستی کے دشمن نے اپنے یا اپنی قوم کے بت توڑے تھے تو یہ امر اور ہے اور ایک واقع اور نفس الامر کا بیان ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۹-۳۰) تمام مذاہب کے بڑوں کی بے ادبی سے منع کیا اور فرمایا۔ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ کبھی برا نہ کہنا ان کو جن کو لوگ پوجتے ہیں اور جنہیں لوگ اللہ تعالیٰ کے ورے پکارتے ہیں اگر تم برا کہہ بیٹھو گے تو بت پرست اللہتعالی ہیں اگرتم برا کہ بھوکے تو بت لے اُن کو جنہیں اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں برا مت کہو ۔ پھر وہ ضد اور نادانی سے اللہ کو برا کہیں گے ۔