حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 392
حقائق الفرقان ١٠٩ ۳۹۲ سُورَةُ الْأَنْعَامِ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ - زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ترجمہ ۔ اور تم برا نہ کہا کرو ان کو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں کہیں وہ برا کہہ بیٹھیں گے اللہ کو دشمنی سے بے جانے بوجھے اسی طرح ہم نے پسند کر دیتے ہیں ہر ایک جماعت کو ان کے کام پھر ان کو ان کے رب کی طرف پلٹنا ہے تو وہ ان کو خبر دار کر دے گا اس سے جو وہ کرتے تھے۔ تفسیر۔ اب ایک اخلاقی تعلیم پیش کرتا ہے کہ حق بات کہو۔ دین کی تبلیغ کرو۔ مگر کسی کے بزرگ کو گالی نہ دو نہ رام چندر کو ۔ نہ کرشن کو ۔ نہ بدھا کو۔ اور نہ کسی اور کو۔ كَذلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ کسی معبود کو برا نہ کہو ورنہ ہمارے مولی کو برا کہیں گے۔ اسی طرح خوبصورت خوبصورت کر کے دکھلایا ہے۔ ہم نے ہر قوم کے لئے وہ کام جو ان کو کرنا چاہیے۔ یعنی جو عمل ہم ان سے کرانا چاہتے ہیں۔ اس کی خوبصورتی ہم نے اسی طرح بیان کی ۔ دیکھو اللہ کا بیٹا نہ بنانے اور شرک کی برائی کے لئے کیسے معقول دلائل دیئے ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه (۱۰۰) اسلام نے کوئی عمدہ تعلیم اور پسندیدہ بات نہیں جس کا حکم نہ دیا ہو اور کوئی بری اور ناپسند بات نہیں ۔ جس کی ممانعت نہ کی ہو۔۔۔ اخلاق وہ کسی نبی پر کوئی اعتراض نہیں ۔ سب کا ماننا۔ سب کا ادب اسلام میں ضرور ہوا ۔۔۔ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللہ سے بڑھ کر کون حکم ہے جو اخلاق کا مصدر بن سکے ۔ تعجب آتا ہے۔ الزامی طور پر بھی قرآن عیوب کا اشارہ نہیں کرتا۔ ( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۷۶،۷۵ ) پنڈت سوامی دیانند نے اپنی تحریروں میں دعوی کیا ہے کہ دوسرے مذاہب کو برا کہنا ان کا شیوہ نہیں اور بد تہذیب شخص کو وہ بہت برا سمجھتے ہیں ۔ اس راہ کے آداب و اخلاق کے سکھانے میں بھی قرآن کریم کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس مبارک کتاب نے تعلیم دی ہے کہ یہ الباطل سے جنگ کرنے کے وقت اس کے قابلِ اکرام معبودوں اور معظم مقصودوں کی نسبت قابل کس طریق پر کلام کرنا چاہیے ۔ جیسے فرمایا وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ