حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 362
حقائق الفرقان ۳۶۲ سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ ۴۴ - فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمُ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۔ ترجمہ ۔ تو وہ کیوں نہ گڑ گڑا ئیں جب ان پر تکلیف ہماری آئی لیکن ان کے دل بہت سخت ہو گئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے ہیں۔ تفسیر - جَاءَهُمْ بَأْسُنَا ۔ یہ باس ( جنگ و جدال ) جس میں کئی کئی طرح کی مصیبتیں آتی ہیں۔ باس کے مقابلہ میں ہے۔ آجکل بھی جنگ و جدال عجیب عجیب رنگ میں ظاہر ہو رہا ہے قسطنطنیہ کی جو حالت ہے۔ ایران کی جو حالت ہے۔ وہ تم اخباروں میں پڑھتے ہو ۔ چالباز مد بر عرب والوں کو سمجھا رہے ہیں ۔ تم الگ ہو جاؤ۔ ترکوں کے ماتحت نہ رہو۔ مطلب یہ کہ متفرق ہو کر طاقت کم ہو جاوے پھر قبضہ میں آسانی ہو۔ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ ۔ ایک اصل بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کام یوں کرو کہ گویا مرنا ہی نہیں ۔ یہ بھی اسی مثل سے ہے۔ سے ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مؤرخه ۲۶ اگست ۱۹۰۹ء صف ء صفحه ۹۵) ۴۶ - فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - ترجمہ ۔ تو جڑ کاٹی گئی بے جا کام کرنے والی قوم کی۔ اور سب حمد (اور واہ واہ ) اللہ ہی کی ہے جو سارے جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا ہے۔ تفسیر ۔ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۔ ساری قوم ہلاک نہیں ہوتی ۔ جو مدبرین ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی صفت جب اپنا جلوہ دکھا چکتی ہے تو پھر الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعلمين کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔ میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور اسلام نہایت نازک حالت میں ہے۔ اس طرف آریہ زور لگا ر ہے ہیں۔ ادھر عیسائی ، ادھر کالجوں سے دہر یہ بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ فرما یا تختی جب تک صاف نہ ہو نقش خوب نہیں پھبتا ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مؤرخه ۲۶ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۹۵)