حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 353
حقائق الفرقان ۳۵۳ سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ ۲۰ - قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللهُ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ أُوحِيَ إِلَى هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَغَ أَبِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أخْرَى قُلْ لا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ الهُ وَاحِدٌ وَ انَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ - ترجمہ۔ تو کہہ دے گواہی کے لئے کس کی گواہی بہت بڑی ہے۔ آپ ہی کہہ اللہ میرا اور تمہارا گواہ ہے۔ اس نے میری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو ڈراؤں اور جس تک یہ قرآن پہنچے اس کو ڈراؤں ۔ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور دوسرے معبود بھی ہیں تو کہہ دے میں تو گواہی نہیں دیتا مگر یہی کہ بس ایک ہی اکیلا اللہ سچا معبود ہے اور میں تو ان سے الگ ہوں اور بیزار ہوں جن کو تم اللہ کے برابر سمجھتے ہو۔ تفسیر قُلِ اللهُ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ - ہمارا تمہارا مقدمہ ہے۔ پچھلی کتابوں میں شہادت موجود ہے۔ تم دیکھ لو کہ مکذبین رسل کا انجام کیا ہوا ؟ تازہ شہادت چاہتے ہو تو اپنے اور میرے اتباع کو دیکھ لو۔ بو علی سینا ایک طبیب تھا ۔ امام غزالی و امام رازی اچھی عربی لکھنے والے ہیں ۔ مگر یہ بھی ان سے کم نہیں ۔ ایک دن اس نے عمدہ تقریر کی۔ ایک اُلو کا پٹھا اس کا شاگرد بیٹھا تھا۔ اس نے کہا آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تو آپ کو زیبا تھا۔ اس وقت ابن سینا خاموش ہو رہا۔ ایک دن سر دی تھی ۔ ٹھنڈی ہوا اور یخ بستہ پانی موجود ۔ اسی شاگرد سے کہا۔ ذرا کپڑے اتار کر اس میں ہو آؤ۔ وہ کہنے لگا۔ خیر ہے کیا آپ مجنون تو نہیں ہو گئے؟ کہا۔ کیا اسی ہمت پر مجھے پیغمبر بناتا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو گھمسانوں میں جانے کا جو حکم دیتے تھے۔ کیا وہ یہی جواب دیتے تھے؟ غرض یہاں اتباع کو مقابلہ میں پیش کیا گیا۔ وَ أُوحِيَ إِلى ۔ اور میرا دعولی تو یہ ہے کہ قرآن مجھ پر وحی ہوا ہے۔ مگر یہ صرف وحی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ خطر ناک بات ہے کہ جو لانْذِرَ كُم به ۔ جو اسی وحی کے خلاف کرے گا وہ یقیناً عذاب میں گرفتار ہو گا اور نہ صرف تم بلکہ من بلغ جن لوگوں تک یہ قرآن پہنچے گا اگر وہ اس کی تم گا وہ اس ہدایات پر کار بند نہ ہوں گے تو خوار ہوں گے۔ تباہ ہوں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه ۹۴)