حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 348
حقائق الفرقان ۳۴۸ سُورَةُ الْأَنْعَامِ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ ۔ پس خَالِقُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ اور جَاعِلُ الظُّلُمَاتِ وَالنُّور سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے اور اس میں اشارہ ہے کہ بے تمیزی سے تمیز دینا بھی اسی اللہ کا کام ہے۔ اور اسی میں ثبوت ہے۔ بعثت نبوت کا ۔ عالم روحانی میں جب ظلمات بڑھے تو نور ضروری ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مؤرخه ۲۶ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۹۳) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّنْ طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهُ ثُمَّ انْتُمْ تَمْتَرُونَ - ترجمہ ۔ وہی رب ہے جس نے تم کو پیدا کیا مٹی سے پھر ایک میعاد مقرر کر دی اس کے لئے اور اس کے نزدیک ایک میعاد مقرر ہے ( موت سے حشر تک ) پھر بھی تم شک ہی کرتے ہو۔ تفسیر وَ أَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَہ ۔ موت سے بحث تک کا زمانہ آجَلٌ مُّسَمًّی کہلاتا ہے۔ جو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۵۲) ٢ - فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبُوا مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - ترجمہ ۔ کچھ شک نہیں کہ انہوں نے سچ کو جھٹلا دیا جب اُن کے پاس آیا تو آگے ان کو معلوم ہوں گی اس کی خبریں جس بات کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔ تفسیر ۔ كَذَّبُوا ۔ جھٹلا چکے حق بات کو جب ان تک پہنچی ۔ اب آگے آوے گا ان پر حق اُس بات کا جس پر ہنستے تھے۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم - صفحه ۲۰۲ حاشیه ) يَسْتَهْزِءُونَ ۔ ھرو سے کسی چیز کو خفیف سمجھنا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ اگست ۱۹۰۹ ء صفحه ۹۳) فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ ۔ یہ پہلی دلیل ہے نبوت کی کہ مخالفانِ نبوت ہلاک ہوں گے ۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۲) اس آیت میں بدوں میعاد معینہ کے مطلق تکذیب پر ہلاکت کی خبر دی۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۰۲)