حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 25
حقائق الفرقان ۲۵ سُورَةُ آل عِمْرَان إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي (ال عمران : ۳۲) یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت رکھتے ہو تو اس کی پہچان یہ ہے کہ میرے تابع ہو جاؤ۔ پھر تم آپ ہی محبوب ہو جاؤ گے ۔ یہ گر ہے جو قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔ کیسا مجرب نسخہ ہے۔ پہلے آپ آزماتا ہے پھر تمہیں بلاتا ہے۔ ایک اور راز محبت ہے اور قرآن کریم نے ہی اسے بیان کیا ہے مگر چونکہ بہت ہی باریک ہے۔ عادت کے نہ ہونے کے سبب اور وقت کے تنگ ہونے کے باعث اس وقت کھول نہیں سکتا ۔ حُبّ کے لئے ایک مناسبت ہوتی ہے۔ اس مناسبت کے سبب سے عشق و محبت ہوتی ہے۔ ہیر یا رانجھا کو ایک دوسرے نے جس نظر سے دیکھا۔ کوئی اور ان کے دیکھنے والا نہ تھا۔ یہ ایک بار یک راز ہے اور بڑی صحبت کو چاہتا ہے۔ میرے دل میں جوش ہے۔ جس سے بتاؤں کہ یہ کیا راز ہے۔ الحکم جلد ۱۳ نمبر ۹، ۱۱،۱۰ مورخہ ۷، ۱۴، ۲۱ مارچ ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۳،۷۲) لڑکے پڑھنے میں سخت محنت کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سل اور دق ہو جاتا ہے تابی ۔اے بن جائیں اور پھر کوئی مرتبہ پائیں۔ اب دیکھئے پاس ہونا موہوم صحت موہوم ، مرتبہ ملنے تک زندہ رہنا خیالی بات۔ باوجود اس کے لڑکے محنت کئے جاتے ہیں۔ پس وہ انسان کیسا بد قسمت ہے جو اس خدا کے پاک وعدے کو جو ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے کچھ قدر نہ کرے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ شریعت مشکل ہتا ہے۔ قدر ہے مگر رسول اللہ اعلان کرتے ہیں میری چال اختیار کرو۔ کوئی کہہ سکتا ہے ہم بڑے گنہگار ہیں ۔ فرماتا سکتا ہے میرے رنگ میں رنگین ہو جاؤ۔ میرے فرمانبردار بن جاؤ۔ اللہ وعدہ کرتا ہے گناہ بخش کر پھر بھی اپنا محبوب بنالیں گے کیونکہ ہمارا نام غفور رحیم ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۶) محمد واحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی پاک تعلیم ، اپنی مقدس و مطہر زندگی اور بے عیب چال چلن اور پھر اپنے طرز عمل اور نتائج سے دکھا دیا کہ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله میں اپنے اللہ کا محبوب ہوں تم اگر اس کے محبوب بننا چا ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اتباع کرو۔